نظرثانی کی درخواست مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نظر بند ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سہولیات فراہم کرنے میں پس و پیش سے کام لینے پر سیکرٹری داخلہ سمیت بعض سرکاری افسران کے خلاف اسلام آباد کی ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے جبکہ چیف جسٹس نے عدالتی فیصلے پر دائر کردہ نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ ڈاکٹر عبدلقدیر خان کے قریبی دوست بیرسٹر اقبال جعفری کی جانب سے دائر کی گئی توہین عدالت کی اس درخواست میں سیکریٹری داخلہ اور بعض دیگر سرکاری افسران کو فریق بنایا گیا ہے۔ اقبال جعفری نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان افسران کے خلاف توہین عدالت کے قانون کے تحت کارروائی کی جائے کیونکہ یہ لوگ اکیس جولائی کے اسی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ عدالت نے اپنے اس فیصلے میں نظر بند ایٹمی سائنسدان کو اپنے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے اور پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کا دورہ کرنے کی اجازت دی تھی تاہم ان سہولیات کو سیکیورٹی کلئیرنس سے مشروط قرار دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم پر مشتمل بنچ نے اسی فیصلے کے ذریعے ڈاکٹر عبدالقدیر کو ایٹمی معامالات پر بیانات جاری کرنے سے بھی بعض رہنے کی ہدایت کی تھی۔ اقبال جعفری نے پیر کے روز عدالت کے سامنے اسی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست پر دلائل بھی مکمل کر لیے جس کے بعد عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بیرسٹر اقبال جعفری نے اس عدالت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور انکا کہنا ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں ہی اس فیصلے کے خلاف بار بار نظر ثانی کی اپیل دائر کرکے انصاف کے حصول کی کوشش جاری رکھیں گے۔ | اسی بارے میں ’جوہری معاملے کی مزید تفتیش نہیں‘ 13 July, 2008 | پاکستان ’ایٹمی سائنسدان فوجی ٹارگٹ ہے‘ 15 July, 2008 | پاکستان ڈاکٹر قدیر حراست پر فیصلہ محفوظ16 July, 2008 | پاکستان ’نظر بندی کے ساتھ زباں بندی‘21 July, 2008 | پاکستان مشروط ملاقات پر نظرثانی کی پٹیشن22 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||