’جوہری معاملے کی مزید تفتیش نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ان الزامات کی مستقبل میں کوئی تفتیش نہیں کی جائے گی کہ پاکستانی فوج نے ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مدد کی تھی۔ ڈاکٹر خان نے گزشتہ ہفتے یہ الزام لگایا تھا کہ شمالی کوریا کو سینٹریفیوج فوج کی نگرانی میں بھیجے گئے تھے۔ شاہ محمود قریشی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو داخل دفتر کر دیا گیا ہے اور اب اس سلسلے میں مزید تفتیش نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جو کچھ معلوم کیا جاسکتا تھا، کیا جا چکا ہے۔ جو اقدامات کیے جانے تھے، کیے جا چکے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ مقصد یہ تھا کہ ’دنیا کو محفوظ رکھا جائے اور جوہری آلات کو محفوظ رکھا جائے اور یہ کہ جو کچھ ماضی میں ہوا، وہ مستقبل میں نہ ہو۔ اور یہ مقاصد حاصل کیے جا چکے ہیں‘۔ ’جہاں تک ہمارا نظریہ ہے، ڈاکٹر اے کیو خان اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان کا کوئی سرکاری رتبہ نہیں ہے اور جو نیٹ ورک انہوں نے تیار کیا تھا، وہ توڑا جا چکا ہے‘۔ شاہ محمود قریشی نے، جو آجکل نیو یارک میں ہیں، یہ بھی کہا کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں وثوق سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں طالبان رہنما بیت اللہ محسود کا ہاتھ تھا۔ ’ہم تفتیش سے پہلے ہی الزام نہیں لگانا چاہتے۔ہم ایک غیر جانبدار اور آزادانہ انکوائری کرانا چاہتے ہیں۔میں یہ کہہ رہا ہوں کہ نہ تو ہم اس امکان کو خارج کرسکتےہیں، اور نہ ہی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں بیت اللہ محسود کا ہاتھ تھا‘۔ |
اسی بارے میں ڈاکٹر قدیر کے الزام کی تردید05 July, 2008 | پاکستان ’شاید بتا دوں کہ اعتراف کیوں کیا‘28 May, 2008 | پاکستان کیا پاکستان سچ کا متحمل ہو سکتا ہے؟05 July, 2008 | پاکستان قدیر اور پاکستانی سیاست کا جھوٹ06 July, 2008 | پاکستان ’امریکہ کو تشویش کا علم ہے‘12 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||