’امریکہ کو تشویش کا علم ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر شدت پسندوں کے خلاف بیرونی افواج کی طرف سے کارروائیوں کے بارے میں امریکی حکومت پاکستان کی تشویش سے پوری طرح آگاہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات کرنے کے بعد انہوں نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان اعتراضات کو رد کیا کہ حکومت پاکستان قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف پوری طرح کارروائی نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی پالیسی ہے کہ پاکستان کے اندر صرف پاکستانی سیکیورٹی فورسز ہی کارروائی کریں گی اور غیر ملکی افواج کو پاکستان کے اندر کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی حکومت پاکستان کی خودمختاری کے احترام کی ضرورت کو سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا انہیں یقین ہے کہ امریکی حکام مقامی صورت حال اور لوگوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں اور وہ اس سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق واشنگٹن میں کچھ ناقدین کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کو شدت پسندی سے زیادہ سختی سے نمٹنا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کی طرف سے شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت اور معاہدے کرنے کی پالیسی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں گزشتہ مہینے افغان سرحد کے قریب امریکی فوج کی ایک کارروائی میں گیارہ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ نیویارک میں افغان وزیر خارجہ رنگین دادفر سپانتا سے ملاقات کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان خطے میں استحکام اور امن کے لیے ہر طرح سے تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جو کچھ کر رہا ہے وہ اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’باؤچر کا بیان قابلِ اعتراض نہیں‘03 July, 2008 | پاکستان امریکی گولہ باری، آٹھ فوجی زخمی11 July, 2008 | پاکستان اتحاد ٹوٹا تو صدر کی نوکری پکی؟04 July, 2008 | پاکستان ’فاٹا میں پہلے سے زیادہ شدت پسند‘11 July, 2008 | پاکستان مہمند ایجنسی حملہ: گیٹس کا اظہارِ افسوس02 July, 2008 | پاکستان صدر مشرف کوئی مسئلہ نہیں: باؤچر02 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||