’باؤچر کا بیان قابلِ اعتراض نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسے امریکی معاون وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کے اس بیان میں کوئی قابل اعتراض بات دکھائی نہیں دیتی جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو صدر تسلیم کرتے ہیں۔ ترجمان وزارت خارجہ محمد صادق سے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں نے جب دریافت کیا کہ ایسے میں جب پاکستان کا حکمراں اتحاد صدر پرویز مشرف کو قانونی صدر تسلیم نہیں کرتا کیا یہ ملکی معاملات میں مداخلت نہیں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ رچرڈ باؤچر نے انہیں صدر تسلیم کیا ہے جس سے انہیں کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے آٹھ جولائی سے شروع ہونے والے دورۂ امریکہ کے دوران بھی اس معاملے کو اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ رچرڈ باؤچر نے گزشتہ روز ایک اخباری کانفرنس میں صدر کے انتخاب کے بارے میں قانونی و آئینی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ کہ امریکہ انہیں صدر تسلیم کرتا ہے اور وہ اُن سے ان کی نئی حیثیت اور نئی حالات میں اسی طرح تعلق رکھے ہوئے ہیں۔ ترجمان محمد صادق نے امریکہ کے چئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کہ اس بیان پر اپنے ردعمل میں کہ انہیں بطور ایک فوجی پاکستان میں القاعدہ اور طالبان رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے مکمل اختیار حاصل ہے کہا کہ انہوں نے اس انٹرویو کا متن نہیں دیکھا ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ رچرڈ باوچر بھی کل اپنے بیان میں یہ حقیقت تسلیم کرچکے ہیں کہ پاکستانی علاقوں میں کارروائی کا اختیار صرف پاکستانی سکیورٹی فورسز کو حاصل ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم سید رضا گیلانی اٹھائیس جولائی کو امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی دعوت پر ان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ امور پر بات ہوگی۔
ادھر حکومت پاکستان نے افغانستان سے کہا ہے کہ وہ ان دو مبینہ افغان شہریوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے جنہیں گزشتہ دنوں قبائلی علاقے باجوڑ میں شدت پسندوں نے سرعام ذبح کیے جانے کی تحقیقات کی جاسکیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کو بتایا کہ حکومت پاکستان افغانستان سے ان افراد کے نام، پاسپورٹ نمبر، ویزے سے متعلق معلومات اور باجوڑ جانے کا مقصد بتانے کے لیے کہا ہے تاکہ انہیں سرعام سزا کی تحقیقات شروع کی جاسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلومات تحقیقات میں مفید ثابت ہوں گی۔ ترجمان نے اعتراف کیا کہ افغان حکومت نے واقعے کی تحقیقات اور ملوث افراد کو سزا دینے کی درخواست کی ہے۔ تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو شدت پسندوں کی جانب سے دی جانے والی معلومات میں انہیں افغان شہری ظاہر کیا گیا ہے تاہم ان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ باجوڑ کے شدت پسندوں نے گزشتہ دنوں دو افراد کو جاسوس ظاہر کرتے ہوئے سرعام ذبح کیا تھا جس پر کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے اہلکار کو افغان حکام نے وزارت خارجہ طلب کیا تھا۔ | اسی بارے میں غیر آئینی صدر اندرونی معاملہ: نواز شریف03 July, 2008 | پاکستان ’پرویز مشرف غیر آئینی صدر ہیں‘02 July, 2008 | پاکستان صدر مشرف کوئی مسئلہ نہیں: باؤچر02 July, 2008 | پاکستان گیلانی اور رچرڈ باؤچر کی ملاقات30 June, 2008 | پاکستان باؤچر کی نواز شریف سے ملاقات01 July, 2008 | پاکستان مہمند ایجنسی حملہ: گیٹس کا اظہارِ افسوس02 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||