BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 October, 2008, 09:26 GMT 14:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت کو مزید اقدامات کی ہدایت

ڈاکٹر عافیہ کی حمایت میں
ڈاکٹر عافیہ امریکی اداروں کی تحویل میں ہیں اور اُن پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کا الزام ہے
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دو بچوں کی بازیابی کے لیے حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے حوالے سے حکومت کی کوششوں کو سراہا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ کے دوبچے سلمان اور مریم ابھی تک لاپتہ ہیں جبکہ اُن کے بڑے بیٹے احمد کو گزشتہ ماہ افغان حکومت نے پاکستانی حکومت کے حوالے کردیا تھا۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کے حوالے سے دائر درخواست پر پاکستانی وزارت خارجہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بدھ کے روز جواب داخل کرادیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے امریکہ سے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے حوالے سے ایک مراسلہ لکھا ہے۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان اور امریکہ کے درمیان 1959میں طے پانے والے دوستی کے معاہدے کی روشنی میں کی گئی ہے۔

وزارت خارجہ کے اہلکار نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ اس مراسلے میں جو باتیں لکھی گئی ہیں اُن کو منظر عام پر نہیں لایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھااور اُن کے خلاف پاکستان میں کوئی مقدمہ نہیں تھا اور نہ ہی حکومت نے اُنہیں گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور اُن کی وطن واپسی کے حوالے سےدرخواست بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے دائر کی ہے۔

جب اس درخواست کی سماعت چیمبر میں ہوئی تو درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے متعلق حکومت کی طرف سے جو بھی اقدامات کیے گئے ہیں وہ صرف زبانی تھے جبکہ اس بارے میں کوئی تحریری طور پر کارروائی نہیں کی گئی۔ جس پر عدالت نے وزارت خارجہ کے اہلکاروں سے کہا کہ حکومت نے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے لیے جو بھی اقدامات کیے ہیں اُس سے عدالت کو بھی آگاہ کریں۔

واضح رہے 6 اکتوبر کو اس درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے کے متعلق وزارت خارجہ کی طرف سے عدالت میں تفصیلی جواب داخل نہ کرانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔

بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے حوالے سے 14 جولائی کو عدالت میں درخواست دائر کی تھی لیکن حکومت نے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

وزارت خارجہ میں امریکی ڈیسک کے ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود ہوتے ہیں اور اُن کو قانونی امداد کی فراہمی میں معاونت دی جا رہی ہے۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت تین ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ امریکی اداروں کی تحویل میں ہیں اور اُن پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔

درخواست گزار جاوید اقبال جعفری نے پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کی عدالت میں پیشی کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُن کے موکل جمعرات کو عدالت میں حاضر ہونا چاہتے ہیں لہذا اُن کی سیکورٹی کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد