’حکومت ڈاکٹر عافیہ کو واپس لائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ کو ذہنی امراض کے ہسپتال منتقل کیے جانے پر ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت پاکستان سے انہیں فوری طور پر پاکستان لانے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ یہ بات انہوں نے کمیشن برائے انسانی حقوق کے عہدیدار اور سابق وفاقی وزیر اقبال حیدر کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امریکی عدالت کے اس حکم سے دھچکا لگا ہے جس کے تحت ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی حالت کے تجزیے کے لیے انہیں امریکی ریاست ٹیکساس کے کارس ویل نفسیاتی سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’یہ سینٹر بدنام زمانہ پاگل خانہ ہے اور اس کے بارے میں مشہور ہے وہاں سے کوئی زندہ یا صحیح سلامت باہر نہیں آیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہسپتال امریکہ میں دہشت گھر کے طور پر جانا جاتا ہے اور وہاں داخل ہونے والی خواتین کے ساتھ جسمانی اور نفسیاتی زیادتیوں کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ امریکی ڈاکٹر پہلے ہی ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی حالت کے بارے میں یہ تشخیص کرچکے ہیں کہ وہ کرونک ڈپریسو سائیکوسس (سی ڈی پی) یعنی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ’ان کی یہ حالت قابل فہم ہے کیونکہ ایک ماں ہونے کے باوجود انہیں اپنے بچوں سے الگ تھلگ بدترین حالات میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ہولناک ذہنی اور جسمانی ایذائیں پہنچائی گئیں‘۔ ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ امریکی ڈاکٹروں کی اس تشخیص کے بعد انہیں امید تھی کہ ڈاکٹر عافیہ کو مطلوبہ علاج فراہم کیا جائے گا اور بعد میں انہیں رہا کرکے پاکستان بھیج دیا جائے گا۔ لیکن عدالتی حکم پر پاگل خانے منتقل کر کے انہیں غیرمعینہ مدت کے لیے مزید اذیتوں اور قید تنہائی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ’ڈاکٹر عافیہ کے خلاف ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ انہیں جیل میں مزید قید رکھا جائے۔ یہ امریکی حکومت کی ایک نئی چال ہے تاکہ انہیں نفسیاتی تجزیے کے بہانے مزید عرصے قید رکھا جا سکے‘۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ کارس ویل سائکیاٹرک سینٹر میں عام طور پر ان قیدیوں کو منتقل کیا جاتا ہے جن کے خلاف امریکی حکام کوئی ثبوت پیش نہیں کرپاتے۔ ’اس اقدام کا مقصد ڈاکٹر فوزیہ کی برین واشنگ کرکے ان کی یادداشت کو اس طرح تبدیل کرنا ہے کہ ان کے خلاف امریکی تفتیش کاروں کی گڑھی ہوئی کہانیوں کو انہی کی زبانی درست ثابت کرا سکیں‘۔ ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ ان کی ہمشیرہ کو نہ تو ان کے امریکہ میں مقیم بھائی سے ملاقات کرنے دی گئی اور نہ ہی پاکستان میں رہائش پذیر ان کے اہل خانہ سے ٹیلی فون پر بات کرائی گئی ہے۔ انہوں نے بارہا اس خدشے کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو جن حالات میں قید رکھا جارہا ہے ان میں ان کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کو انصاف دلانے کے سلسلے میں کی گئی کوششوں پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ان کے قانونی دفاع کے لیے اعلان کردہ مالی امداد فوری فراہم کرے تاکہ وہ انہیں انصاف دلانے کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کرسکیں۔ | اسی بارے میں عافیہ کیس: ہفتےمیں جواب طلب06 October, 2008 | پاکستان ڈاکٹر عافیہ: ’خالد شیخ سے کوئی تعلق نہیں‘19 September, 2008 | پاکستان ڈاکٹرعافیہ، بیٹا خالہ کے حوالے15 September, 2008 | پاکستان پارلیمانی وفد امریکہ بھیجنے کا فیصلہ15 August, 2008 | پاکستان ڈاکٹر عافیہ کے طبی معائنے کا حکم11 August, 2008 | پاکستان ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مظاہرہ08 August, 2008 | پاکستان عافیہ کے لیے آواز اُٹھائیں: فوزیہ05 August, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید ہیں‘23 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||