BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 August, 2008, 07:01 GMT 12:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمانی وفد امریکہ بھیجنے کا فیصلہ

گزشتہ ہفتے ڈاکٹر عافیہ کو زخمی حالت میں نیویارک کی ایک عدالت میں پیش کیاگیا
پاکستانی سینٹ کی امور خارجہ سے متعلق قائمہ کمیٹی نے امریکہ میں مقید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ اور گوانتاموبے میں قید سات پاکستانی شہریوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی امریکہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سینٹ کمیٹی مسلم لیگ قاف کے سینٹر مشاہد حسین اور پاکستان مسلم لیگ نون کی سینٹر سعدیہ عباسی، محمد علی درانی، طلحہ محمود اور عباس کمیلی پر مشتمل ہو گی۔

سینٹ کی کمیٹی تین ستمبر سے پہلے امریکہ پہنچے گی جہاں وہ ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے کی سماعت بھی دیکھے گی اور اس کے بعد گوانتاموبے جیل میں قید سات پاکستانیوں کی حالت زار معلوم کرنے کی کوشش کرے گی۔

پاکستانی پارلیمنٹ کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا وفد ہو گا جو دہشگردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہونے کے بعد کسی پاکستانی شہری کے حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے امریکی حکام سے ملاقات کرے گا۔

گوانتاموبے میں قید مبینہ دہشگردوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کو پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں کے تعاون سے افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔

پانچ سال قبل پاکستان سے لاپتہ ہونےوالی ڈاکٹر عافیہ کو ایک ماہ قبل زخمی حالت میں امریکی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ امریکی فوجی سے رائفل چھین کی فوجی پر حملہ آور ہوئیں۔

پانچ سال سے لاپتہ ڈاکٹر عافیہ کو جب گزشتہ نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ زخموں سے کراہ رہی تھیں اور عدالت نےان کا علاج کروانے کا حکم دیا۔

اس کے علاوہ سینٹ کی خارجہ اور انسانی حقوق کی فنکشنل قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت اور بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے معصوم افراد کی ہلاکت پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد بھی پاس کی گئی جس میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے کہا گیا کہ وہ انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔

قراراداد میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کے مکینوں پر اقتصادی پابندیاں اور انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔

قراراداد میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے لیڈر یسین ملک کے، جو بھارتی سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کے خلاف بھوک ہڑتال پر ہیں، ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ بعدازاں یہ قرارداد اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کروائی گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد