’عافیہ پیاری سی لڑکی تھی۔۔۔‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عافیہ صدیقی کی پیدائش کراچی میں ہوئی، اعلی تعلیم انہوں نے امریکہ کے عالمی شہرت یافتہ میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے حاصل کی، اور تیس مارچ دو ہزار تین کو وہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں۔ اگلے دن پاکستانی اخبارات میں خبر چھپی کے القاعدہ سے روابط کے الزام میں ایک عورت کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کی تصدیق پاکستان کی وزارت داخلہ نے کی، اور پھر وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے حوالے سے خبر چھپی کے عافیہ صدیقی کو امریکیوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ بعد میں حکومت پاکستان اور امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے صاف انکار کیا کہ عافیہ کے گم شدگی سے ان کا کوئی تعلق تھا۔
عافیہ صدیقی کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی کے غائب ہونے کے بعد ایک شخص موٹرسائیکل پر ان کے گھر آیا اور انہیں دھمکی دی کہ ’ اگر میں اپنی بیٹی اور نواسی نواسوں کو دبارہ زندہ دیکھنا چاہتی ہوں، تو میں خاموش رہوں۔‘ عافیہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں اور ان کے والد نے برطانیہ میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے ایک بھائی امریکہ میں آرکیٹیکٹ ہیں اور بڑی بہن فوزیہ دماغی امراض(نیورولوجی) کی ماہر ہیں اور پہلے نیو یارک میں کام کرتی تھیں۔ عافیہ نےابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور ایم آئی ٹی سے حیاتیات میں ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران انہوں نے اسلامی تنظیموں کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ ان کے ساتھ پڑھنےوالے ایک طالب علم ان کے بارے میں کہتے ہیں ’ ہلو برادر ٹائپ‘ کی خاتون تھیں۔ حمزہ نامی اس طالب علم کے مطابق ’ وہ ان خواتین میں شامل تھیں جو سر پر سکارف باندھتیں، اور ہم پر زور ڈالتیں کہ ہم تنظیم کے جلسوں میں شرکت کریں۔‘
’وہ ایک پیاری سی لڑکی تھی، کبھی کبھی اس سے الجھن ہوتی، لیکن وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔ اکثر پمفلیٹ تقسیم کرتے آپ کو مل جاتی۔‘ ڈگری مکمل کرنے کے بعد عافیہ نے نوجوان پاکستانی ڈاکٹر محمد امجد خان سے شادی کر لی۔ بعد میں انہوں نے نیورولوجی میں ریسرچ شروع کی۔ عافیہ کی والدہ کے مطابق شادی کے بعد امجد سے ان کا جھگڑا اس بات پر تھا کہ بچوں کی پرورش امریکہ میں ہو یا پاکستان میں۔ عافیہ بچوں کو امریکہ میں ہی رکھنے کے حق میں تھیں۔ لیکن گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ ایف بی آئی نے امجد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا کیونکہ انہوں نے رات میں دیکھنے والی دور بین، زر بکتر اور عسکری موضوعات پر کتابیں خریدی تھیں۔ عافیہ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی لیکن بعد میں دونوں کو چھوڑ دیا گیا۔ امجد کا موقف تھا کہ یہ سامان انہوں نے شکار کھیلنے کے لیے خریدا تھا۔ اس کے کچھ دن بعد وہ پاکستان لوٹ گئے کیونکہ ان کے خیال میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ میں پاکستانیوں کے خلاف امتیاڑ بڑھ رہا تھا۔ سن دو ہزار دو میں انکی طلاق ہوگئی، اس وقت عافیہ کے یہاں تیسرے بچے کی پیدائش ہونے والی تھی۔ وہ کن حالات میں غائب ہوئیں، اس بارے میں کئی طرح کی کہانیں ہیں۔ پہلے امریکی جریدے نیوز ویک میں خبر چھپی کہ وہ القاعدہ کے ’سلیپر سیل‘ کا حصہ تھیں۔ پھر امجد خان پر الزام لگا کہ انہوں نے امریکہ میں پیٹرول سٹیشنوں کو دھماکے سے اڑانے کامنصوبہ بنایا تھا۔ سن دو ہزار چار میں ایف بی آئی نے کہا کہ پوچھ گچھ کے لیے عافیہ اسے مطلوب ہیں۔ بعد میں کہا گیا کہ القاعدہ کے ایسے گروہ میں شامل تھیں جو لائبیریا سے ہیروں کی سمگلنگ کرتا تھا۔ نیوز ویک جیسے جریدوں کے مطابق سمگلنگ کا مقصد القاعدہ کے کیمیاوی اور حیاتیاتی اسلحے کے پروگرام کے لیے فنڈز اکھٹا کرنا تھا۔ اس دوران یہ دعوے کیے جاتے رہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی قید میں ہیں۔ اس سب کے بعد اب اچانک امریکہ نے اعلان کیا کہ انہیں افغانستان سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اب وہ امریکہ میں ہیں اور انہیں افغانستان میں حراست کےدوران امریکی فوجیوں کو قتل کرنےکی کوشش کے الزام کا سامنا ہے۔ ایف بی آئی ان کے خلاف پہلے سے عائد کردہ کوئی بھی الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ماہرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر عافیہ دہشت گردی کے الزام میں قید میں ہیں تو ان کے شوہر کیسے آزاد ہیں؟ اس کا جواب شاید اس بات سے مل سکتا ہے کہ عافیہ کی رشتہ داری خالد شیخ محمد سے ہے جنہوں نے مبینہ طور پر گیارہ ستمبر کے حملوں کی سازش رچی تھی۔ کہا یہ جاتا ہے کہ طلاق کے بعد عافیہ نے خالد شیخ محمد کے ایک بھتیجے علی عبدالعزیز سے شادی کر لی تھی۔ اگرچہ ان کے اہل خانہ اس بات سے انکار کرتے ہیں، لیکن بی بی سی نے خالد شیخ کی فیملی سے اس کی تصدیق کی ہے۔ ہو سکتا ہےکہ عافیہ کا ’جرم‘ صرف اتنا ہی ہو۔ لیکن امریکی اور پاکستانی انٹیلی جنس کے لیے شاید یہ ’جرم‘ شاید اتنا بڑا تھا کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔ | اسی بارے میں ’ڈاکٹر عافیہ امریکہ کی تحویل میں‘03 August, 2008 | پاکستان قیدی نمبر 650 کی رہائی کے لیےمظاہرہ31 July, 2008 | پاکستان وزارت داخلہ کو نوٹس جاری30 July, 2008 | پاکستان حبس بے جا کی درخواست منظور29 July, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید‘24 July, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید ہیں‘23 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||