قیدی نمبر 650 کی رہائی کے لیےمظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جماعت اسلامی کے شعبہ خواتین کی جانب سے افغانستان میں مبینہ طور پر قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے احتجاج کیا گیا ہے جس میں امریکہ کے ساتھ پاکستان حکومت پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ اپنے تین نو عمر بچوں کے ہمراہ کراچی سے پانچ برس قبل لاپتہ ہو گئیں تھیں۔ان پر القاعدہ کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ کراچی پریس کلب کے باہر یہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے، جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ جو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ مظاہرین نے ایک بینر اٹھایا ہوا تھا جس پر امریکی فوج کی درندگی کا شکار ڈاکٹر عافیہ اپنے پاکستانی بھائیوں کو پکار رہی ہے۔ مظاہرے میں شریک جماعت اسلامی کی شعبہ خواتین کی رہنما عائشہ منور نے حکومت سے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت ڈاکٹر عافیہ کو معصوم بچوں سمیت گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کس عدالت نے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی دہشتگرد ہیں، کس عدالت نے یہ حکم دیا کہ ان کے معصوم بچوں کو ماں سے جدا کردیا جائے۔ اگر وہ مجرم ہیں تو عدالت میں پیش کریں۔ عائشہ منور کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ جیسے انسانیت دشمن کی بات پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں وہ اس پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔ پشاور سے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ نے بتایا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے پریس کلب کے باہر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس پر بینر اور پوسٹر آویزاں تھے جن پر ان کی رہائی کے مطالبات تحریر تھے۔ یاد رہے کہ انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان میں بگرام کے مقام پر قائم امریکی جیل میں قید رکھا گیا ہے جہاں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ان کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف پٹیشن زیر سماعت ہے۔ | اسی بارے میں ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید ہیں‘24 July, 2008 | پاکستان حبس بے جا کی درخواست منظور29 July, 2008 | پاکستان وزارت داخلہ کو نوٹس جاری30 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||