BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 July, 2008, 10:33 GMT 15:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حبس بے جا کی درخواست منظور

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا الزام ہے کہ ڈاکٹر عافیہ بگرام ائر بیس میں قید ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے پانچ سال قبل کراچی سے لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو، جو امریکہ سے لوٹ کر پاکستان آئی تھیں، حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

لیکن عدالت نے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو عدالتی حکم کے باوجود رشتہ داروں اور دوستوں سے ملاقات کے لئے سہولیات فراہم نہ کرنے پر سیکرٹری داخلہ سمیت دیگر سرکاری افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست مسترد کر دی۔

یہ دونوں درخواستیں بیرسٹراقبال جعفری نے دائر کی تھیں۔

ڈاکٹر عافیہ کے معاملے میں بیرسٹر جعفری نے سیکرٹری داخلہ کمال شاہ کے توسط سے پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کو اور امریکی سفارتخانے کے قانونی مشیر کے ذریعے امریکی انٹیلیجنس اداروں کو فریق بنایا ہے۔

درخواست میں انسانی حقوق کی تنظیم ایشیئن ہیومن رائٹس کونسل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو پاکستانی اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے گرفتار کرنے کا اعتراف کیا تھا لیکن بعد میں اس سے لا تعلقی ظاہر کر دی گئی تھی۔

ڈاکٹر عافیہ اپنے تین نو عمر بچوں کے ہمراہ کراچی سے پانچ برس قبل لاپتہ ہو گئیں تھیں۔ ان پر القاعدہ کی مدد کرنے کا الزام ہے اور پوچھ گچھ کے لیے وہ امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آیی کو مطلوب ہیں۔

بگرام میں امریکہ کا فوجی ٹھکانہ

انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان میں بگرام کے مقام پر قائم امریکی جیل میں قید رکھا گیا ہے جہاں وہ قیدی نمبر 650 کے نام سے مشہور ہیں۔

اس درخواست پر سماعت بدھ کے روز متوقع ہے۔

بیرسٹر جعفری نے ڈاکٹر قدیر خان کے کیس میں اپنی درخواست میں کہا تھا کہ مذکورہ افسران ڈاکٹر قدیر کی اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات میں اکیس جولائی کے عدالتی حکم کے تحت سہولیات فراہم کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ پٹیشنر افتخار حسین کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اس مقدمے کے بارے میں کسی اعتراض کے مجاز نہیں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ درخواست میں صدر مملکت کو بھی فریق بنانے کی درخواست کی گئی ہے جبکہ آئین کی دفعہ 246 کے تحت ایسا ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد