پاکستان لاپتہ افراد کورہا کرائے:ایمنٹسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی نئی حکومت سے کہا ہے کہ ان سینکڑوں افراد کے بارے معلومات فراہم کی جائیں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں لاپتہ ہوگئے ہیں۔ ایمنسٹی نے کہا ہے کہ یا تو ان کو رہا کیا جائے ورنہ ان کو باضابطہ سرکاری قید خانوں میں منتقل کیا جائے۔ ایمنسٹی نے پچاس صفحے کی اپنی رپورٹ میں کئی ایسے افراد کی تفصیلات بتائی ہیں جن کو زبردستی لیجایا گیا ہے اور اس کے بعد سے ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ ایمنسٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں معزول ججوں کو بحال کیا جائے۔ اس ادارے کی ایشیا پیسیفک شاخ کے ڈائریکٹر سیم ظریفی نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا اصرار ہے کہ ان کی مخلوط حکومت حقوق انسانی کا پاس کرے گی اس لیے ہمارا اصرار ہے کہ ان زبردستی کی گمشدگیوں کا معاملہ جلد از جلد حل کریں۔
ایمنسٹی رپورٹ کا آغاز ہی آمنہ مسعود کے اس بیان سے ہوتا ہے کہ ’ہمارے لیے آزاد ججوں کی بحالی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔مجھے یقین ہے کہ میرے شوہر مسعود کو میرے گھر سے صرف تین کلومیٹر دور رکھا گیا ہے۔ لیکن میں ، میرے بچے اور ان بچوں کے دادا، دادی نہ تو مسعود کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کس طرح کے بہیمانہ حالات سے گزر رہے ہوں گے۔ نئی حکومت کو فوری طور پر ایسے تمام لوگوں کو بازیاب کرنا چاہئیے۔‘ ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومین رائٹس اسوقت پانچ سو تریسٹھ غائب افراد کے لواحقین کی نمائندگی کر رہی ہے۔گزشتہ برس یکم نومبر کے بعد سےلاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ میں کوئی سماعت نہیں ہوئی اور یوں یہ مسئلہ بھی ججوں کی بحالی کے معاملے کے ساتھ خود بخود نتھی ہوگیا۔ ڈیفنس آف ہیومین رائٹس کے مطابق تین نومبر کو ججوں کی برطرفی کے بعد سے اب تک لاپتہ افراد کے ساٹھ نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ان میں سب سے زیادہ تعداد صوبہ بلوچستان سے ہے۔ ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق بلوچستان میں چھ سو کے لگ بھگ لوگ لاپتہ ہیں۔ بلوچ تنظیمیں لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں بتاتی ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے موجودہ وزیرِ اعلی نواب اسلم رئیسانی ان افراد کی تعداد نو سو سے زائد کہتے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر دو ہزار چھ میں شہریوں کو جبری طور پر غائب کرنے کے خلاف جو کنونشن منظور کیا اس پر بہتر ممالک دستخط کر چکے ہیں اور چار ممالک نے توثیق کر دی ہے۔ پاکستان نے تاحال اس کنونشن کو تسلیم نہیں کیا۔
اس کے باوجود صدر پرویز مشرف متعدد مرتبہ ایمنسٹی کی رپورٹوں کو پوری طرح مسترد کرچکے ہیں۔گزشتہ برس مارچ میں پاکستانی صدر نے اس بات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا کہ سینکڑوں لاپتہ افراد انٹیلی جینس ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ بقول صدر مشرف انہیں یقین ہے کہ یہ افراد شدت پسند تنظیموں کے کنٹرول میں ہیں۔ جہاں تک لاپتہ افراد کے معاملے میں نئی حکومت کی دلچسپی کا سوال ہے تو ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد کہا کہ لاپتہ افراد کے بارے میں تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ وزیرِ قانون فاروق نائیک نے بھی اسی طرح کی یقین دہانی کراتے ہوئے وعدہ کیا کہ لاپتہ افراد جلد رہا ہوجائیں گے۔جبکہ بلوچستان کے نو منتخب وزیرِ اعلی اسلم رئیسانی نے بھی یقین دلایا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس سال مئی میں نئی حکومت نے بلوچستان میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ایک کمیشن کے قیام کا اعلان کیا۔ تاہم آج تک اس کمیشن کے ارکان، اختیارات اور تحقیقاتی دائرہ کار کا اعلان نہیں کیا گیا۔اسی دوران وزارتِ داخلہ نے لاپتہ افراد کے لواحقین اور ارکانِ پارلیمان پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ۔ تاحال اس کمیٹی کے بھی صرف دو اجلاس ہوئے ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس کمیٹی کا دائرہ کار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چشم دیدگواہوں اور بازیاب افراد کے بیانات کی روشنی میں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ لاپتہ افراد میں بچے بھی شامل ہیں اور ایجنسیاں ان بچوں کو اپنے عزیزوں کے خلاف گواہی دینے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔ رپورٹ میں ایک دس سالہ بچے عبداللہ کا تذکرہ ہے جسے سولہ مئی دو ہزار چھ کو اس کے والد مفتی منیر شاکر کے ہمراہ کراچی ایرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ عبداللہ نے رہائی کے بعد بتایا کہ اس کے ساتھ دورانِ حراست بدسلوکی کی گئی تاکہ وہ یہ اعتراف کرے کہ اس کے باپ کا تعلق القاعدہ سے ہے۔انکار کے بعد اسے پندرہ دن تک ایک علیحدہ سیل میں رکھا گیا۔عبداللہ کو رہائی کی پیش کش کی گئی لیکن اس نے باپ کے بغیر رہا ہونے سے انکار کردیا۔ بالاخر عبداللہ کو اٹھاون روز کی قید کے بعد پشاور میں یہ کہہ کر ایک جگہ چھوڑ دیا گیا کہ اس کے باپ کو بھی پندرہ دن میں رہا کردیا جائے گا۔ عبداللہ کے والد مفتی شاکر کو کئی ماہ بعد اگست دو ہزار سات میں رہا کیا گیا۔ اسی طرح ایک نو سالہ لڑکے اسد عثمان کو گزشتہ سال اپریل میں سپریم کورٹ کی مداخلت پر رہا کیا گیا۔اسے فرنٹئیر کانسٹیبلری نے پکڑ کر تربت میں ایک جگہ رکھا تھا۔اور اس وقت کی وفاقی وزیر زبیدہ جلال کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ اسد کو اسوقت رہا کردیا جائے گا جب اس کا مطلوب بڑا بھائی خود کو پیش کر دے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایجنسیاں ان افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی رہتی ہیں اور حتمی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ ان ایجنسیوں کے کتنے خفیہ یا اعلانیہ نظربندی اور پوچھ گچھ مراکز پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انٹیلی جینس ایجنسیاں اکثر و بیشتر لاپتہ افراد کے لواحقین پر عدالت سے رجوع نہ کرنے اور اخباری بیانات سے پرھیز کرنے کے لئے دباؤ ڈالتی ہیں۔ کبھی انہیں یقین دھانی کرائی جاتی ہے کہ چپ رہنے کی صورت میں ان کے عزیز جلد سامنے آ جائیں گے۔اور کبھی سنگین نتائج اور لاپتہ فرد کے دیگر عزیزوں کو اٹھانے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی لاپتہ افراد پر غائب ہونے کے کافی عرصے بعد مقدمے بھی قائم کئےگئے تاکہ ان کی گمشدگی کو قانونی جواز دیا جا سکے۔اس بارے میں ایک افغان شہری عبدالرحیم مسلم دوست کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔جسے سن دو ہزار ایک میں گوانتانامو بھیج دیا گیا۔بعد ازاں اسے رہا کردیا گیا لیکن ستمبر دو ہزار چھ میں اسے دوبارہ پشاور کی ایک مسجد سے اس کے بچوں اور بھائی کے سامنے گرفتار کیا گیا۔کیونکہ اس نے گوانتانامو میں اپنے تجربات کو کتابی شکل میں شائع کیا تھا۔ تاہم ہائی کورٹ کے روبرو پولیس اور ایجنسیوں نے مسلم دوست کی گمشدگی سے لاعلمی ظاہر کی۔ مسلم دوست کو ایجنسیوں نے غائب کرنے کے آٹھ ماہ بعد خیبر ایجنسی کی پولٹیکل انتظامیہ کے حوالے کردیا جس نے مسلم دوست پر ایف سی آر کے تحت مقدمہ قائم کردیا۔مسلم دوست آج بھی پشاور جیل میں ہے اور مقدمے کی سماعت کا منتظر ہے۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی میں ایک بنیادی مشکل یہ ہے کہ انٹیلی جینس ایجنسیوں کی جوابدھی اور ان پر کنٹرول کا نظام غیر واضح اور مبہم رکھا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں جولائی دو ہزار چھ میں حبسِ بے جا کی ایک درخواست کی سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جینس پر وزارتِ دفاع کا انتظامی کنٹرول تو ہے لیکن آپریشنل کنٹرول نہیں ہے ۔لہذا ان ایجنسیوں سے عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں کروائی جا سکتی۔ اییمنسٹی کی رپورٹ میں عدالتی طریقِ کار پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹس ریاستی وکلاء کی جانب سے کسی شخص کی نظربندی سے لاعلمی یا انکار کی صورت میں مزید جرح کے بغیر اکثر حبسِ بے جا کی درخواستیں خارج کردیتی ہیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ لاپتہ افراد کی بازیابی کے بعد یہ جاننے کے لئے بہت کم دلچسپی کا مظاہرہ کرتی ہے کہ مذکورہ شخص کس ادارے کی تحویل میں تھا اور اس ادارے کی جوابدھی کیسے ہو۔اس کے علاوہ گمشدگی کے مقدمات کی سماعت طویل عرصے کے لئے ملتوی کردی جاتی ہے۔اور یوں گمشدہ فرد اور اسکے عزیزوں کی تکالیف کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو یا تو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے یا ان پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کر کے تسلیم شدہ عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ غلط بیانی کرنے والے یا غیر قانونی حراست اور گمشدگی میں ملوث تمام افراد کو بلاامتیازِ عہدہ و مرتبہ کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ اس کے علاوہ تمام خفیہ نظربندی مراکز کو ختم کرکے ان کی موجودگی اور قیام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔انٹیلیجینس ایجنسیوں کو ان کے اقدامات کی جوابدہی کے لئے قانوناً پابند کیا جائےاور لاپتہ افراد سمیت انسانی حقوق کے تمام عالمی معاہدوں اور کنونشنز کو جلد از جلد تسلیم کیا جائے۔ | اسی بارے میں ’ کیا ہم غیر معینہ مدت تک انتظار کریں‘ 18 July, 2008 | پاکستان ’لاپتہ افراد، بازیابی کی کوشش نہیں‘ 13 July, 2008 | پاکستان کوئٹہ: گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ08 June, 2008 | پاکستان ایک سال میں 135 کو پھانسی28 May, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے کمیٹی کی تشکیل14 May, 2008 | پاکستان لاپتہ افراد: آرمی چیف کو الٹی میٹم07 March, 2008 | پاکستان تاریخ: پاکستان میں سیاسی گمشدگیاں01 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||