’ڈاکٹر عافیہ امریکہ کی تحویل میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ پانچ برس قبل کراچی سے لاپتہ ہونے والی پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر عافیہ صدیقی زندہ ہیں اور افغانستان میں ایک امریکی قید خانے میں موجود ہیں۔ یہ بات صدیقی خاندان کی امریکی وکیل نے پاکستانی صحافیوں کو بھیجی گئی ایک ای میل میں بتائی ہے۔ ایلنے وہائٹ فیلڈ نے اپنی ای میل میں انکشاف کیا ہے کہ جمعرات کے روز ایف بی آئی کا ایک ایجنٹ ہیوسٹن میں مقیم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بھائی کے گھر گیا اور انہیں بتایا کہ انکی بہن افغانستان میں قائم ایک امریکی قید خانے میں زخمی حالت میں موجود ہیں۔ امریکی وکیل کے مطابق صدیقی خاندان کو مقید عافیہ صدیقی کی صحت یا انکے بچوں بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ پانچ برس قبل کراچی سے اسلام آباد آتے ہوئے جب ڈاکٹر عافیہ لاپتہ ہوئیں تھیں تو انکے ہمراہ انکے تین کم سن بچے بھی تھے جن کی عمریں چھ ماہ اور نو سال کے درمیان تھیں۔ ان پانچ برسوں میں یہ پہلی بار ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں کوئی با ضابطہ اطلاع سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل انکے اغوا کے فوراً بعد امریکی اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے انکے القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں گرفتاری کی تصدیق کی تھی تاہم بعد میں اس سے لاتعلقی ظاہر کر دی گئی تھی۔
ایف بی آئی کی جانب سے یہ اطلاع انسانی حقوق کی ایشائی تنظیم کی اس یادداشت کے بعد سامنے آئی ہے جس میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے اپنا اثر و رسوخ استمعال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اسلام آباد کی ہائیکورٹ میں بھی اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایک وکیل نے ڈاکٹر عافیہ کو حبس بے جا میں رکھنے پر پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے پاکستانی وزارت داخلہ سے جواب بھی طلب کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے خاندانی کے ایک قریبی فرد نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ تین روز سے وہ مختلف حکام سے ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں کہیں سے کوئی مدد نہیں مل رہی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس سے کئے گئے روابط بھی بیکار ثابت ہو رہے ہیں۔ البتہ اس ساری کارروائی کے جواب میں پاکستان میں مقیم ڈاکٹر عافیہ کے اہل خانہ کو دھمکیاں ملنے کا سلسہ دوبارہ تیز ہو گیا ہے۔ ان ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے جب ایک وکیل نے ڈاکٹر عافیہ کی بازیابی کے لئے اپنے طور پر اسلام آْباد کی ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو اسکے بعد بھی بعص نامعلوم افراد کی جانب سے صدیقی خاندان کو دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئیں جس میں انہیں مقدمہ واپس لینے کا کہا گیا تھا۔ ان ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر عافیہ زندہ ہیں تو کس حال میں ہیں اور انکے بچے کہاں ہیں۔ وہ ان اطلاعات کے بارے میں بھی تشویش کا شکار ہیں جن میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا تھا کہ بگرام میں قائم امریکی جیل میں قیدی نمبر 650 کے نام سے مشہور ڈاکٹر عافیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث وہ ذہنی توازن کھو چکی ہیں۔ | اسی بارے میں ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید‘24 July, 2008 | پاکستان حبس بے جا کی درخواست منظور29 July, 2008 | پاکستان وزارت داخلہ کو نوٹس جاری30 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||