ڈاکٹر عافیہ کے طبی معائنے کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک کی ایک ضلعی عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹے کے اندر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا طبی معائنہ کرایا جائے۔ نیویارک کی ضلعی عدالت کے جج رابرٹ پِٹمین نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے طبے معائنے کے حکم کے ساتھ ہی ان کی ضمانت کی درخواست پر کارروائی تین ستمبر تک ملتوی کر دی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پیشی کے موقع پر خاصی کمزور دکھائی دے رہی تھی اور انہیں ایک ویل چیئر میں کمرہِ عدالت تک لایا گیا۔ پیر کے روز جب کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ان کے وکلاء نے ان کی ضمانت کی درخواست پر دلائل دینے کے بجائے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی موکلہ کو طبی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ عدالت کے جج رابرٹ پِٹمین نے ڈاکٹر عافیہ کے وکلاء کی یہ استدعا منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ چوبیس گھنٹے کے اندر ڈاکٹر عافیہ کا ایک فزیشن کے طبی معائنہ کرایا جائے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کی سماعت کے موقع پر نیویارک میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بھی عدالت کے باہر موجود تھی۔
پانچ برس سے لاپتہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو گزشتہ منگل کے روز پہلی بار ایک امریکی عدالت کے سامنے پیش کیاگیا تھا جہاں ابتدائی سماعت کے دوران انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ کی وکیل ایلان وائٹفیلڈ شارپ نے کہا تھا کہ ان کی مؤکل گولی لگنے کی وجہ سے شدید تکلیف میں ہیں۔ وکیل نے ڈاکٹر عافیہ پر لگائے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ’ ناقابل یقین کہانی‘ ہے اور اس کہانی کو ثابت کرنے کے لیے کوئی شواہد سامنے نہیں لائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی فوجیوں اور اہلکاروں پر حملہ کیا ہے۔ نیویارک میں ایف بی آئی اور نیویارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی کی طرف سے جاری کیئے جانے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو ایک ماہ قبل افغانستان میں غزنی کے صوبے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اٹھارہ جولائی کو ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک تفتیشی ٹیم پر ایک فوجی کی بندوق چھین کر فائرنگ کر دی تھی۔ اس ٹیم میں شامل ایک امریکی فوجی کی جوابی فائرنگ اور اس کے بعد کشمکش میں ڈاکٹر عافیہ زخمی ہو گئی تھیں۔ اس بیان کے مطابق ڈاکٹر عافیہ ایف بی آئی کو کافی عرصے سے دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھیں۔
اس بیان میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو غزنی میں گورنر کی رہائش گاہ کے احاطے سے افغان پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق افغان پولیس کو شیشے کے مرتبانوں اور بوتلوں میں سے کچھ دستاویزات ملی تھیں جن میں بم بنانے کے طریقے درج تھے۔ اس بیان میں کہا گیا ڈاکٹر عافیہ ایک کمرے میں بند تھیں۔ جب ان سے تفتیش کے لیے ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک ٹیم پہنچی تو انہوں نے پردے کے پیچھے سے ان پر دو گولیاں چلائیں لیکن وہ کسی کو نشانہ نہ بنا سکیں۔ چھتیس سالہ ڈاکٹر عافیہ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہیں اور مبینہ طور پر القاعدہ کی رکن ہیں۔ سن دو ہزار تین میں کراچی سے ان کی گمشدگی کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ڈاکٹر عافیہ اور ان کے تین بچوں کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سن دو ہزار چار میں اس وقت کے امریکی اٹارنی جنرل ایشکرافٹ اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ مولر نے ڈاکٹر عافیہ کو القاعدہ کے ان ارکان میں شامل کیا تھا جو کہ امریکہ کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھے۔ | اسی بارے میں عافیہ کا عدالت میں ایک دن06 August, 2008 | آس پاس ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید‘24 July, 2008 | پاکستان حبس بے جا کی درخواست منظور29 July, 2008 | پاکستان وزارت داخلہ کو نوٹس جاری30 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||