BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 August, 2008, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عافیہ کے لیے آواز اُٹھائیں: فوزیہ

فوزیہ
یہ بین اقوامی قانون ہے کہ ہر وہ شخص بے قصور ہے جب تک اس پر جرم ثابت نہیں ہوجاتا: فوزیہ
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ ایک بچہ بھی موجود تھا اور وہ بچہ عافیہ کا بیٹا ہوسکتا ہے جسے رہا کیا جائے۔

یہ بات پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے امریکی حکام کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف جاری کردہ چارج شیٹ کی نقلیں صحافیوں میں بانٹیں۔ اس چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ ایک بچہ بھی موجود تھا۔

چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو غزنی میں گورنر کی رہائش گاہ کے احاطے سے افغان پولیس نے گرفتار کیا تھا ان کے ساتھ ایک نو عمر لڑکا بھی تھا۔ تاہم اس میں یہ نہیں واضح کیا گیا کہ وہ لڑکا بھی امریکی تحویل میں ہے یا نہیں۔

ادھر اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں امریکی حکام سے رابطے میں ہے اور سفارتخانے کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دفتر خارجہ کا مختصر بیان امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ کی موجودگی کی خبر سامنے آنے، اور انکے اہل خانہ کی جانب سے کراچی میں کی جانے والی پریس کانفرنس کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے پاکستانی شہریوں اور اور مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ ان کی بہن بے قصور ہیں اور انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ’ان کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے اسے انسانیت سوز قرار دے کر اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔‘

عافیہ کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا جارہا ہے

پاکستان اور امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے بارے میں عدالتوں، سینیٹ، صدر اور وزیراعظم سے درخواست کی گئیں جو کارگر ثابت نہیں ہوسکیں۔

ڈاکٹر فوزیہ نے بتایا کہ پاکستان میں میڈیا کا دباؤ بڑھنے کے بعد ان کے خاندان کو یہ اطلاع ملی کہ عافیہ کو افغانستان میں گرفتار کیا گیا ہے۔

’یکم اگست کو ایف بی آئی کے ایجنٹ نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر عافیہ زخمی ہیں اور امریکی حراست میں ہیں۔ پانچ سال کی گمشدگی کے بعد اس کی گرفتاری ناقابل یقین ہے۔‘

 ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر پانچ سال تک یہ درج رہا ہے کہ عافیہ سے کچھ سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔ ان پر کسی تخریب کاری میں ملوث ہونے کا الزام نہیں تھا۔
ڈاکٹر فوزیہ

امریکہ میں ملازمت کرنے والی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ’اب میں نے خاموشی توڑی دی ہے تاکہ آپ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کر سکوں۔ یہ بین اقوامی قانون ہے کہ ہر وہ شخص بے قصور ہے جس پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوجاتا۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ عافیہ کسی جرم میں شریک نہیں رہی ہیں۔ ’ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر پانچ سال تک یہ درج رہا ہے کہ عافیہ سے کچھ سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔ ان پر کسی تخریب کاری میں ملوث ہونے کا الزام نہیں تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی کے بعد سنہ دو ہزار تین میں ان کی والدہ عصمت صدیقی نے ہیوسٹن اور بوسٹن میں ایف بی آئی اے حکام سے ملاقات کی۔ ’انہوں نے میری والدہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ عافیہ زندہ ہیں۔ اسی طرح اسسٹنٹ اٹارنی نے ملاقات میں کہا تھا کہ عافیہ پر دہشت گردی کا الزام نہیں عائد کیا جارہا ہے۔‘

ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی نیورو بائلاجسٹ نہیں ہیں۔ ’ان کی مہارت اس میں تھی کہ کمزور ذہنی بچوں کی قوت یادداشت کیسے بڑہائی جائے۔ اس کا کیسمٹری، اور کیمیائی ہتھیاروں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔‘

میڈیا سے اپیل
 اگر امریکہ کہتا ہے کہ عافیہ تخریب کار ہیں اور ان کے تخریب کاروں سے تعلقات ہیں تو اسے ایڈٹ کردیا جائے جب تک وہ اس کے شواہد نہیں دیکھ لیتے۔ وہ عافیہ کے بارے میں پانچ سال میں کچھ حاصل نہیں کرسکے اور یہ اس کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔
ڈاکٹر فوزیہ

انہوں نے ایف بی آئی کے الزامات کو بھی رد کیا اور کہا کہ ڈاکٹر عافیہ نے لائبیریا میں ہیروں جواہرات کی کوئی ڈیل نہیں کی۔ ’جولائی دو ہزار ایک میں وہ بوسٹن میں بچوں کے ایک پروگرام اور شہر کو صاف کرنے کی مہم میں مصروف تھیں ان دنوں میں ان کی موجودگی لائبیریا میں ظاہر کی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ ان کا موقف بھی سامنے لایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا ’اگر امریکہ کہتا ہے کہ عافیہ تخریب کار ہیں اور اس کے تخریب کاروں سے تعلقات ہیں تو اسے ایڈٹ کردیا جائے جب تک کہ وہ خود اس کے شواہد نہیں دیکھ لیتے۔ وہ عافیہ کے بارے میں پانچ سال میں کچھ ثابت نہیں کرسکے اور یہ اس کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔‘

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ عافیہ کو اپنے ملک واپس لایا جائے جہاں سے اسے گرفتار کیا گیا۔ وہ پاکستانی شہری ہیں اور یہ پاکستانیوں اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے پر اٹھ کھڑے ہوں۔

اس موقع پر موجود انسانی حقوق کمیشن کے رہنما اقبال حیدر نے کہا کہ پانچ سال کے بعد ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے۔ امریکہ خود دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے مہم چلائی جائے گی۔

اسی بارے میں
وزارت داخلہ کو نوٹس جاری
30 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد