ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی عدالت میں امریکی فوجیوں پر قاتلانہ حملے کے الزامات کا سامنا کرنے والی پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں ایک مظاہرہ ہوا جس سے بعض ارکان پارلیمنٹ اور ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی نے بھی خطاب کیا۔ اسکے علاوہ ڈاکٹر فوزیہ کے معاملے کی بازگشت پاکستانی سینیٹ اور دفتر خارجہ میں بھی سنائی دی۔ انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم نے بھی ایک بیان کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ کی ضمانت پر رہائی اور امریکی کانگریس سے انکی پانچ سالہ پراسرار گمشدگی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں عام لوگوں، بعض سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے کے دوران گاہے بگاہے جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے جب دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین آمنہ مسعود اور ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جذباتی تقریروں کے دوران اپنے پیاروں کی تصاویر چوم چوم کر روتے رہے۔ اس مظاہرے کا اہتمام اسلام آباد کے ڈاکٹرز اور انجیئرز کی تنظیم نے کیا تھا۔ ڈاکٹر فوزیہ اس مظاہرے میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر کراچی سے آئیں تھیں۔ ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ انہیں کسی سے کوئی شکوہ نہیں کرنا کیونکہ وہ اپنی بہن کے معاملے کو اللہ کی عدالت میں لیجائیں گی اور وہاں ان لوگوں کا گریبان پکڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے کہا گیا تھا کہ اگر عافیہ امریکی تحویل میں ہیں تو میں مطمئن رہوں کہ کم از کم انکے ساتھ وہاں بدسلوکی تو نہ ہو گی لیکن دیکھو میری بہن کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے۔ ’ کون سی ایسی بدسلوکی ہے جو امریکی جیل میں ان کے ساتھ نہیں کی گئی۔‘
ڈاکٹر فوزیہ کا پانچ سال سے لاپتہ اپنی بہن کے لیے کیا جانے والا یہ پہلا عوامی احتجاج تھا۔ اس اجتجاجی جلسے سے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور راولپنڈی بار کے صدر سردار عصمت اللہ نے بھی خطاب کیا لیکن پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی جسٹس ر افتخار چیمہ نے اپنی تقریر میں بہت واضح مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کہ حاضرین میرے اس مطالبے کی حمایت کریں کہ صدر مشرف پر عافیہ صدیقی کو اغوا کرنے اور حبس بیجا میں رکھنے پر مقدمہ چلایا جائے اور انہیں پھانسی دی جائے۔ جسٹس ریٹائرڈ افتخار کے اس بیان پر پنڈال کافی دیر تک ’مشرف کو پھانسی دو‘ کے نعروں سے گونجتا رہا۔ اس سے قبل سینیٹ کے اجلاس میں بھی یہ معاملہ زیر بحث رہا جب حکومتی اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بعض سینیٹرز نے پاکستانی شہری کی گرفتاری اور امریکی عدالت میں اس پر مقدمے کے بارے میں حکومت سے جواب طلبی کی۔ قائد ایوان رضا ربانی نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی اور گرفتاری سے موجودہ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حکومت اس معاملے پر اپنی کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ اس بارے میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی بعد دوپہر ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان سے گرفتار نہیں کیا گیا اور ان کی گرفتاری میں پاکستانی اداروں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی ایشائی تنظیم نے ایک بیان میں امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے حالات کی تحقیقات کرے اور اس دوران انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔ |
اسی بارے میں عافیہ کے لیے آواز اُٹھائیں: فوزیہ05 August, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر عافیہ امریکہ کی تحویل میں‘03 August, 2008 | پاکستان قیدی نمبر 650 کی رہائی کے لیےمظاہرہ31 July, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید‘24 July, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید ہیں‘23 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||