عافیہ کیس: ہفتےمیں جواب طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے پیر کے روز امریکہ میں قید پاکستانی نژاد ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی وطن واپسی سے متعلق مفصل جواب داخل نہ کروانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ہفتے میں اس بارے میں جواب داخل کروائیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی اور اُن کے صحت کے بارے میں ایک آئینی درخواست بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے دائر کی ہے۔ حبس بے جا کی اس درخواست میں عدالت نے دفتر خارجہ سے جواب طلب کر رکھا تھا تاہم ابھی تک اس بارے میں تفصیلی جواب داخل نہیں کروایا گیا۔ پیرکو جب اس درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو وزارت خارجہ میں امریکی ڈیسک کے ڈائریکٹر منصور خان عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار مقدمے کی ہر پیشی پر عدالت میں حاضر ہوتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کے اخراجات پاکستانی حکومت ہی برداشت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مذکورہ پاکستانی ڈاکٹر کی وطن واپسی کے لیے چودہ جولائی سے عدالت میں درخواست دائرکر رکھی تھی لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے جواب داخل نہیں کروایا گیا۔ جاوید اقبال جعفری نے کہا کہ ’حکومت ایک پاکستانی کو وطن واپسی کے حوالے سے لیت ولعل سے کام لے رہی ہے تو اُن آٹھ سو پاکستانیوں کا کیا ہوگا جنہیں مختلف ادوار میں امریکہ اور دوسرے ملکوں کے حوالے کیا گیا‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے جس سے عدالت کا اور درخواست گذار کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے وزارت خارجہ کے اہلکار کو ہدایت کی کہ وہ ایک ہفتے میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں تفصیلی جواب عدالت میں جمع کروائیں اور اس کے بعد مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت پندرہ اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ |
اسی بارے میں ڈاکٹرعافیہ، بیٹا خالہ کے حوالے15 September, 2008 | پاکستان عافیہ شدید ذہنی دباؤمیں: ڈاکٹر13 September, 2008 | پاکستان عافیہ، منگل کو عدالت میں پیشی 05 August, 2008 | آس پاس عافیہ کا عدالت میں ایک دن06 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||