BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 September, 2008, 06:48 GMT 11:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر عافیہ: فرد جرم کے لیے بائیس ستمبر

ڈاکٹر عافیہ کے حمایتی
’ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کی سماعت کس کمرہء عدالت میں ہے؟‘
’کون؟ وہ جو دہشتگرد ہے!‘
’اسے ڈاکٹر مت پر دہشتگرد کہو‘

یہ تھے وہ سوالات جو کم از کم دو افراد نے متعلقہ عدالت کے استقبالیہ ڈیسک پر موجود شخص سے پوچھے اور ان کے جوابات۔ کم از کم نیو جرسی کے پاکستانی شوکت علی اور نیویارک میں ایک سینیئر پاکستانی صحافی چودھری افتخار کو یہی جوابات سننے کو ملے۔

جمعرات کے روز نیویارک کی وفاقی عدالت یو ایس کورٹ صدرن ڈسٹرکٹ میں امریکہ بنا م ڈاکٹر عافیہ صدیقی مقدمے کی سماعت تھی۔ عدالت کے جج رچرڈ ایم بریمن کہہ رہے تھے کہ ’عافیہ صدیقی کو تب تک بیگناہ سمجھا جائے جب تک جیوری اس کےخلاف کوئی جرم ثابت نہ کرے۔‘ عافیہ صدیقی کے خلاف فرد جرم عائد کی جانیوالی تھی۔

سٹرپ سرچ
 اس پر بات کرنے کی ضروت ہے کہ آخر مدعاعلیہ نے پیشی پر کیوں حاضر نہ ہونے کا فیصلہ کیا- اگرچہ وہ ایسا کرسکتی ہیں لیکن اس وقت جب ان کے خلاف فرد جرم عائد ہونی ہے اس میں مدعاعیلہ کا غیر حاضر رہنے کا فیصلہ کوئی اچھی اور قابل قبول بات نہیں۔ پھر جج نے کہا کہ ’جہاں تک میں سمجھا ہوں مس صدیقی نے پیشی سے غیر حاضر رہنے کا راستہ جیل میں ان کی ’سٹرپ سرچ‘ ہونے پر چنا
عدالت
ابھی امریکی یا کسی بھی عدالت میں عافیہ صدیقی کا مقدمہ بمشکل پیش ہی ہوا ہے کہ بقول شخصے پاکستان یا نیویارک کی سڑکوں پر بہت سے پاکستانیوں نے اسے بے گناہ اور امریکی پریس کے بڑے حصے نے اسے ’دہشتگرد‘ ماننا شروع کر دیا ہے۔

اے بی سی نیوز نے تو اسے ’القاعدہ کی ماتا ہری‘ کہا ہے جس پر عافیہ کی وکیل الزبیتپھ فنک نے عدالت سے اے بی سی سمیت امریکی میڈیا کی عافیہ کے متعلق ایسی خبروں کو اس کے مقدمے میں انصاف کے تقاضوں کو ملیامیٹ کردینے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ امریکی حکومت ایسے اخبارات سمیت دیگر ذرائع ابلاغ کو ’فیڈ‘ کر رہی ہے۔

لیکن عافیہ صدیقی آج اپنی سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں کی گئيں کہ انہوں نے عدالت کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا- امریکی قوانین کے مطابق اگرچہ جیل میں قید ملزم کو عدالت پیش کیے جانا یا اسکے پیش ہونے کا حق کوئی قطعی نہیں ہے لیکن اس کا وکیل عدالت میں استثنیٰ کی درخواست دے سکتا/ سکتی ہے-‘

عافیہ صدیقی کی وکیل الزبیتھ فنک نے کہا کہ وہ اپنی موکلہ (عافیہ صدیقی) کی حاضری سے استثنی کی درخواست نہیں دائر کر رہی۔

جج رچرڈ بریمین نے کہا اس پر بات کرنے کی ضروت ہے کہ آخر مدعاعلیہ نے پیشی پر کیوں حاضر نہ ہونے کا فیصلہ کیا- اگرچہ وہ ایسا کرسکتی ہیں لیکن اس وقت جب ان کے خلاف فرد جرم عائد ہونی ہے اس میں مدعاعیلہ کا غیر حاضر رہنے کا فیصلہ کوئی اچھی اور قابل قبول بات نہیں۔ پھر جج نے کہا کہ ’جہاں تک میں سمجھا ہوں مس صدیقی نے پیشی سے غیر حاضر رہنے کا راستہ جیل میں ان کی ’سٹرپ سرچ‘ ہونے پر چنا-

’ہیبت ناک تجربہ‘
 یور آنر ! میں آپ کو بتاؤں کہ عافیہ صدیقی کو کس طرح آتے جاتے ہر و‍قت سٹرپ سرچ سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ہیبت ناک تجربہ ہے جب مجھے بھی ان سے ملنے پر سٹرپ سرچ کیا گیا
عافیہ کی وکیل
اس پر عافیہ کی وکیل الزبیتھ فنک نے کہا کہ ’یور آنر ! میں آپ کو بتاؤں کہ عافیہ صدیقی کو کس طرح آتے جاتے ہر و‍قت ’سٹرپ سرچ‘ سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ہیبت ناک تجربہ ہے جب مجھے بھی ان سے ملنے پر 'سٹرپ سرچ‘ کیا گیا۔

پھر الزبیتھ فنک نے اپنے جسم کی حرکت سے مظاہرہ کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کس طرح انہیں جسم کے مخصوص حصوں کو اوپر نیچے کروا کر 'سٹرپ سرچ‘ کروائی جاتی ہے جس میں مقعد بھی شامل ہے- ’لیکن میں تریپن سال کی عمر میں زیاد جھک نہیں سکتی‘۔

جج نے کہا کہ مجھے اپنے بہت سے ساتھی ججوں سے زیادہ پتہ ہے کہ سٹرپ سرچ کیا ہوتی ہے- لیکن یہاں مسئلہ تمہاری (وکیل الزبیتھ فنک کی) سٹرپ سرچ کا زیر بحث نہیں ہے مسئلہ عافیہ صدیقی کوان کے مقدمے کی سماعت پر آنے میں رکاوٹوں پر بحث کا ہے-‘

جج نے کہا کہ ’فیڈرل بیورو پرزنز کا سکیورٹی کی وجہ سے سب سے سٹرپ سرچ کا یکساں طریقہ ہے اور وکیل فنک آپ کو ان مسلمہ قوانین کا پتہ ہے۔‘ جس پر وکیل فنک نے کہا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ پاکستانی حکومت عافیہ صدیقی کی سٹرپ سرچ کے مسئلے پر امریکی حکومت سے بات کرے-‘

استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ ’ایک شخص رائیفل اٹھا کر بہت سے امریکیوں کو قتل کرنا چاہتا ہے، اس شخص پر جیل حکام تو انتہائي سکیورٹی رکھیں گے-‘

امریکی حکومت کا ٹرائل
 عدالت سے باہر سڑک پر امریکی حکومت کا بھی مظاہروں اور احتجاج کی صورت میں ٹرائل ہو رہا تھا جس میں مختلف الخیال لوگ، انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور مذہبی گروپ بھی بینر اٹھائے ہوئے تھے
عافیہ کی وکیل الـیتھ فنک نے کہا کہ ’اس ملک میں چالیس سال قبل بلیک پینتھر والوں پر بھی ایسے ہی الزمات لگائے گئے تھے، لیکن آخر میں وہ بری ہوگئے-‘

الزبیتھ فنک نے امریکی محکمہ انصاف کے انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں مینہیٹن ڈیٹینشن سینٹر (جہاں عافیہ صدیقی قید ہیں) کو مسلمان قیدیوں پر سخت ترین تشدد کی وجہ سے بدنام قرار دیا گیا تھا- عدالت میں پاکستان کے قونصل جنرل بھی موجود تھے۔

وکیل الزبیتپھ فنک نے کہا کہ ’یور آنر امریکی حکومت ایک طرف اور باقی ہم لوگ دوسری طرف ہیں- اس عورت (عافیہ صدیقی کو) جو ایم آئی ٹی اور برینڈیز یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہے۔ اس عورت کو مارچ دو ہزار تین میں اس کے تین بچوں سمیت اغوا کیا گیا تھا- ہم نہیں جانتے کہ وہ کس کی تحویل میں تھی، آیا وہ امریکہ کی تحویل میں تھی کہ پاکستانی ایجینسیوں کی-‘

ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر امریکی فوجیوں، اور امریکی حکومتی اہلکاروں اور افسروں کو قتل کرنےکی کوشش، ان کے خلاف قتل کی نیت سےہتھیار اٹھانے سیمت چھ مبینہ جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام ہے۔ عدالت نے فرد جرم کے لیے بائيس سمتبر کی تاریخ مقرر کی ہے-

عدالت سے باہر سڑک پر امریکی حکومت کا بھی مظاہروں اور احتجاج کی صورت میں ’ٹرائل‘ ہو رہا تھا جس میں مختلف الخیال لوگ، انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور مذہبی گروپ بھی بینر اٹھائے ہوئے تھے۔ ان تنظیموں میں انٹرینشنل ایکشن سینٹر پاکستان یو ایس اے فریڈم فور، اور ایک گروپ وہ بھی شامل تھا جنہوں نے ’ریوولیوشن اسلام ڈاٹ کام‘ کا بینر اٹھا رکھا تھا- ایک اور تنظیم کونی آئي لینڈ پروجیکٹ کے سرگرم کارکن احسان اللہ بوبی نے وہاں موجود پریس کو بتایا کہ عدالت کی سیکیورٹی نے اسے عدالت میں داخل ہونے سے روکا کیونکہ، بقول بوبی خان، ان کی ٹی شرٹ پر ہوم لینڈ سکیورٹی اور سابق اٹارنی جنرل ایش کرافٹ کے خلاف نعرے تحریر تھے-

مظاہرے میں ایک ماں طلعت ہمدانی بھی شامل تھیں تھی جن کا بیٹا سلمان ہمدانی بھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے میں ہلاک ہونیوالوں میں شامل تھا- انہوں نے کہا کہ وہ عافیہ کے لیے ایک ماں کی حیثیت سے عدالت آئي ہیں-‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد