ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقوں میں سرکاری آپریشن، پاکستان میں امریکی مداخلت، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف اور امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے اتوار کو کراچی میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یہ ریلی نمائش چورنگی سے نکالی گئی جو ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر کے مقام پر شام کو اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں شامل شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں جماعتِ اسلامی کے پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں مختلف نعرے مثلاً ڈاکٹر عافیہ کو رہا کرو، امریکی مداخلت کے خلاف متحد ہوجاؤ، جاگ مسلمان جاگ، پٹرول، آٹے پر قیمتیں کم کرو، وغیرہ درج تھے۔ ریلی کے شرکاء سے جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ جماعتِ اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے حکومت کی جانب سے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے خلاف جس لڑائی کا آغاز کیا گیا ہے دراصل وہ امریکہ کی لڑائی ہے اس لیے کہ امریکہ نے ان کی حکومت کو ختم کیا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ طالبان پاکستان کے خلاف ہیں۔ ان کے بقول طالبان اسلام اور شریعت پسند ہیں اور وہ اسلام کے خلاف کام کرنے والی قوتوں کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی عوام کے حقوق حاصل کرنے کے لیے سڑکوں پر رہے گی، وہ ڈاکٹر عافیہ کو بازیاب کروائے گی، لیکن عافیہ تنہا نہیں بلکہ ہزاروں پاکستانی ہیں جنہیں چند ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کیا گیا ہے اور جو عوام کو بھوک اور افلاس کی دلدل میں دھکیلنا چاہتے ہیں ان سب قوتوں کے خلاف عوام کو متحد ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔
سید منور حسن نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر کے مواخذے کے ساتھ عدلیہ کو بھی بحال کرے اور عوام کو مہنگائی کے چنگل سے نجات دلائے اور اگر حکومت ناکام رہی تو اس کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے امیر جاعت اسلامی کراچی محمد حسین محنتی نے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کے لیے لوگ کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم کا لشکر کیوں نہیں آتا۔ انہوں نے ریلی کے شرکاء کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج جماعتِ اسلامی نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے لشکر کھڑا کردیا ہے اور اگر ڈاکٹر عافیہ کو رہا نہیں کیا گیا، اور حکومت نے ان کی رہائی کے لئے کوششیں نہیں کیں تو یہ لشکر اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر جائے گا اور اسمبلی کا گھیراؤ کرے گا۔ ریلی میں کئی قراردادیں بھی منظور کی گئیں جن میں قبائلی علاقوں میں آپریشن ختم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے، ڈاکٹر عافیہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے حکومت سے مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ کراچی میں لسانی فسادات کرانے کی سازشوں کی مذمت بھی کی گئی۔ |
اسی بارے میں عافیہ کے حق میں ڈاکٹروں کا مظاہرہ16 August, 2008 | پاکستان پارلیمانی وفد امریکہ بھیجنے کا فیصلہ15 August, 2008 | پاکستان عافیہ کی عدالت میں دوسری پیشی12 August, 2008 | پاکستان ڈاکٹر عافیہ کیلیے لاہور میں مظاہرہ12 August, 2008 | پاکستان ڈاکٹر عافیہ کا جیل میں طبی معائنہ13 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||