عافیہ کی عدالت میں دوسری پیشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کو امریکی عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی دوسری پیشی اور دوسرا دن تھا۔ انہیں علی الصبح عدالت میں ویل چیئر پر بٹھا کر لایا گیا جہاں ڈاکٹر عافیہ سے ان کے وکیلوں اور امریکہ میں رہنے والے ان کے ایک بھائی نے ملاقات کی۔ ڈاکٹر عافیہ کریم کلر کے سکارف اور گہرے نیلے رنگ کی قمیض میں ملبوس تھیں۔ اس موقع پر عدالت کی عمارت کی اندر اور باہر فٹ پاتھ پر پاکستانی اور مقامی امریکی مرد و عورتوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف امریکی حکومت کی طرف سے مبینہ دہشتگردی سے تعلق کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر موجود ان لوگوں میں پاکستان میں وکلاء کی تحریک اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ایک اور وکیل اطہر من اللہ اور پاکستان کےقائم مقام قونصل جنرل ثاقب رؤف کے علاوہ شہری اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور پاکستانی نژاد امریکی شہری بھی شامل تھے۔ اگرچہ یونائٹیڈ اسٹیٹس آف امریکہ بنام عافیہ صدیفی کیس کی سماعت ڈھائی بجے دن تھی لیکن یہ لوگ علی الصبح عدالت کی عمارت کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ ان میں برقعہ پوش اور حجاب پہنے عورتیں بھی تھیں، باریش نوجوان بھی، بچے بھی تو لبرل قطع وضع اور خیالات رکھنے والے مرد اور عورتیں بھی۔ ’یہاں عرب کیوں آئے ہوئے ہیں؟‘ میں نے کمرۂ عدالت کے باہر موجود ایک پاکستانی صحافی سے پوچھا۔ ’ہمیں تو دیکھنا ہے کہ ان کے کیس میں انصاف کے تقاضے پورے ہو رہے ہیں کہ نہیں باقی ان پر الزام درست یا غلط ماننے کا کام جج اور عدالت کا ہے‘۔
’میں صرف ایک مسلمان اور انسان ہونے کے ناطے ڈاکٹر عافیہ کے پیشی پر آئی ہوئي ہوں۔‘، ایک حجاب پہنے خاتون نے کہا جو اپنی دو جواں سال بیٹیوں اور چھوٹے بچے کیساتھ آئی ہوئي تھیں‘۔ ایک پاکستانی شوکت علی نامی نیو جرسی سے آئے تھے۔ شوکت علی نے بتایا وہ امریکی فوج میں سویلین ریسرچ انجنیئر ہیں اور قانون کےمطالعے سے انکا شغف ہے اور وہ نیوجرسی سے ایک پاکستانی کی حیثیت سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ دیکھنے آئے ہیں۔ ابتدائی قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد یونائیٹیڈ سٹیٹس بنام عافیہ صدیقی کیس کی کارروائی شروع ہوئی۔ یہ عافیہ صدیقی کی تیسری پیشی تیسری عدالت اور تیسرا جج ہے۔ عافیہ صدیقی کی وکیل الزبیتھ فنک کھڑی ہوئيں اور عدالت سے اپنی موکلہ کی طبی حالت بیان کرنے لگيں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ کے ناف کے تلے زخم ہے۔ ’انکے پیٹ میں زخم ہے اور آنتوں سے خون جاری ہے اور اب تک انہیں حکومت کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھا رہی‘۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کو اپنے جسم سے خون بہتے رہنے پر سخت تشویش ہے۔ وکیل الزبیتھ فنک کے اس بیان پر جج نے کہا ’جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ مدعاعلیہ کو گولی لگی تھی۔ میں لاء اسکول گیا تھا میڈیکل اسکول نہیں گیا۔ اسی لیے مجھے ان کی میڈیکل حالت کا اندازہ نہیں۔ لیکن اب تک انہیں کسی ڈاکٹر یا لائسنس یافتہ فزیشن (جنہیں امریکہ میں ایم ڈی کہتے ہیں) کو کیوں نہیں دکھایا گیا؟‘ اس پر عدالت میں موجود امریکی حکومت کے اسسٹنٹ اٹارنی یا استغاثہ وکیل نے کہا کہ مدعاعلیہ اپنا طبی معائنہ کسی خاتون ڈاکٹر سے کروانا چاہتی ہے اور خاتون ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوسکیں‘۔
سرکاری وکیل کے اس بیان پر ڈاکٹر عافیہ کی وکیل نے کہا کہ سنیچر کے روز جیل میں پاکستانی قائمقام قونصل جنرل اور مدعاعلیہ کے وکلاء ان سے ملے تھے اور ڈاکٹر کی جنس پر ان کی زخمی موکل کو کوئي اعتراض نہیں۔ جبکہ اب تک گولی کے زخموں کو دیکھنے کیلیے جیل میں صرف پی اے یا نرس سے رجوع کیا گيا ہے۔ جج رابرٹ پِٹمین نے عدالت میں موجود امریکی حکومت کے اٹارنی یا استغاثہ کے وکیل کو حکم دیا کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے اندر مدعا علیہ عافیہ صدیقی کا معائنہ کسی لائسنس یافتہ ڈاکٹر سے کرایا جائے۔عدالت کو مدعاعلیہ کی وکیل نے بتایا کہ عافیہ صدیقی نے اپنے وکیلوں کو اپنے طبی معائنے کے سلسلے میں ڈاکٹروں سے رابطے اور گفتگو کا اختیار دیا ہے۔ عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کے خلاف ابتدائي مقدمے کی سماعت کے لیے تین ستمبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اسی تاریخ سماعت کو مدعا علیہ کیخلاف فرد جرم عائد کی جائے گي۔ تین ستمبر کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی افغانستان سے بتائي گئی گرفتاری کو تیس دن پورے ہوتے ہیں۔ عدالت کی عمارت کے باہر فٹ پاتھ پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی دفاع کی وکلاء الـزبیتھ فنک، ایلین وٹفیلڈ شارپ اور پاکستان کے قائمقام قونصل جنرل ثاقب رؤف نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ ان کی وکیل ایلین وٹفیلڈ شارپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے لیے اس وقت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی طبی صورتحال زیادہ اہم ہے اور عدالت میں سب سے پہلے ان کی ترجیح ان کا طبی معائنہ اور علاج کروانے کے احکامات حاصل کرنے کی کاوشیں ہیں۔ عدالت کے باہر پاکستانی نژاد وکلاء کیساتھ پاکستانی وکلاء کی تحریک کے ایک رہنما اعتزاز احسن بھی موجود تھے اور انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے کی کارروائی دیکھنے آئے تھے لیکن وہ ان کے کیس یا ان پر امریکی حکومت کے لگائے گئے الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ |
اسی بارے میں ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مظاہرہ08 August, 2008 | پاکستان ڈاکٹر عافیہ کے علاج کی اپیل09 August, 2008 | پاکستان ڈاکٹر عافیہ کا الزامات سے انکار06 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||