ڈاکٹر عافیہ کے علاج کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی ایشائی تنظیم دی ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو فوری طبی علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انٹرنیٹ پر جاری کئی گئی ایک اپیل میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم کو معلوم ہوا ہے کہ گولی کے زخم اور ایک گردہ نکالے جانے کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ کی طبیعت انتہائی ناساز ہے۔ انسانی حقوق کی ایشائی تنظیم ( اے ایچ آر سی ) نے، جس کا صدر مقام کولمبو میں ہے، امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی کے حالات کی تحقیقات کرے اور اس دوران انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔ حالیہ اپیل میں بتایا گیا ہے کہ عوامی دباؤ کے بعد امریکی حکام نے ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری ظاہر کی ہے اس سے قبل امریکہ نے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ رواں سال ماہ فروری میں عافیہ کو پاکستان لایا گیا تھا تاکہ انہیں اس بات کے لیے قائل کیا جائے کہ وہ القاعدہ کے مبینہ اہم رہنما خالد شیخ محمد کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنیں۔ اے ایچ آر سی کے مطابق امریکہ میں گیارہ ستمبر واقعے کے مبینہ ملزم خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے بعد حکام کو ڈاکٹر عافیہ کی مدد کی ضرورت تھی تاکہ اس الزام کو ثابت کیا جاسکے۔ مطلوبہ بیان حاصل کرنے کے لیے کراچی میں انہیں بہیمانہ تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم کے مطابق امریکی حراست کے دوران ڈاکٹر عافیہ کا ایک گردہ بھی نکال لیا گیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کی قریبی تصویر سے یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ ان پر کس قدر بری طریقے سے تشدد کیا گیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہیں، ان کے ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے اور وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت ایک بیٹا ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ موجود تھا تاہم کراچی سے 2003 کو ان کی گمشدگی کے وقت موجود ان کے دیگر دو بچے تاحال لاپتہ ہیں۔ |
اسی بارے میں ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مظاہرہ08 August, 2008 | پاکستان عافیہ کے لیے آواز اُٹھائیں: فوزیہ05 August, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر عافیہ امریکہ کی تحویل میں‘03 August, 2008 | پاکستان قیدی نمبر 650 کی رہائی کے لیےمظاہرہ31 July, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید‘24 July, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید ہیں‘23 July, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||