BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 September, 2008, 08:07 GMT 13:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عافیہ شدید ذہنی دباؤمیں: ڈاکٹر

ڈاکٹر عافیہ صدیقی
عافیہ صدیقی نے سکون آور ادویات لینے سے بھی نرمی سے منع کر دیا
افغانستان میں مبینہ طور پر امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے الزامات میں نیویارک میں قید پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر ڈاکٹروں نے پرانے نفسیاتی مرض کی تشخیص کی ہے-

یہ بات عافیہ صدیقی کی امریکہ میں مادر علمی میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یا ایم آئي ٹی کے اخبار نےامریکی وفاقی عدالت کی طرف سے جج رچرڈ ایم برمین کو میٹرو پولیٹن ڈیٹینشن سینٹر بروکلین (جہاں عافیہ صدیقی قید ہیں) کے وارڈ کی طرف سے لکھے گئے خط کے حوالے سے بتائي ہے-

ایم آئي ٹی سے شائع ہونے والے اس سب سے پرانے اخبار ’دی ٹیک‘ نے جمعے کے روز اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جعمرات کو نیویارک کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر بروکلین کے وارڈن نے جج رچرڈ ایم برمین کو خط لکھا ہے۔

خط کے مطابق منگل دو ستمبر کو پہلی بار وفاقی بیورو آف پرزنز یا امریکی وفاقی محکمۂ جیل خانہ جات کی نفسیاتی ڈاکٹر ڈایان مکلین نے عافیہ صدیقی کا معائنہ کیا اور ان پر شدید قسم کی سائکوسس تشخیص کی ہے جس میں ذہنی دباؤ، بے چینی، اپنے بچے کی خیریت کے بارے میں سخت پریشان خیال، شدید بےخوابی اور بھوک نہ لگنا شامل ہیں۔

اخبار کے مطابق ڈاکٹر کی رپورٹ میں عافیہ صدیقی ہیلیوسینیشن میں مبتلا پائي گئي ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس نے اپنی بیٹی کو اپنے جیل کے سیل میں دیکھا ہے- جب اس کے دیکھے ہوئے کو اس کی حقیقت سمجھنے کا ٹیسٹ لیا گیا تو وہ اس میں ناکام ہوگئیں-‘

سائکوسس
نفسیاتی ڈاکٹر ڈایان مکلین نے عافیہ صدیقی کا معائنہ کیا اور ان پر شدید قسم کی سائکوسس تشخیص کی ہے جس میں ذہنی دباؤ، بے چینی، اپنے بچے کی خیریت کے بارے میں سخت پریشان خیال، شدید بےخوابی اور بھوک نہ لگنا شامل ہیں۔
اسی خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی نے سکون آور ادویات لینے سے بھی نرمی سے منع کر دیا-

یاد رہے کہ گزشتہ چار ستمبر کو جج برمین نے ڈاکٹر عافیہ صیدیقی پر مقدمے کی سماعت کے دوران ان کی وکیل کی طرف سے اس درخواست پر کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معائنہ کسی خاتون ڈاکٹر سے کرایا جائے کو منظور کرتے ہوئے ایسے احکامات جاری کیے تھے۔

لیکن گزشتہ پانچ ستمبر کو عافیہ صدیقی نے ڈاکٹر سے اپنا طبی معائنہ کروانے سے انکار کر دیا تھا- اخبار کے مطابق عدالت میں سماعت کے دوران عافیہ کو عدالت کی طرف سے مہیا کی ہوئي دفاع کی وکیل الزبیتھ فنک سے بھی عافیہ کی طرف سے ملاقات سے انکار کرنے کا مسئلہ بھی لایا گيا تھا-

اخبار کے مطابق گزشتہ پیر کو جج برمین نے عافیہ صدیقی کا نفسیاتی معائنہ کروانے کا حکم دیا تھا جس کے تحت گزشتہ منگل نو ستمبر کو ڈاکٹر مکلین نے عافیہ صیدقی کا پھر سے نفسیاتی معائنہ کیا اور اس دفعہ انہیں اسی حالت میں پایا لیکن ان پر شدید قسم کی لیکن پرانی ڈپریسو سائیکوسس تشخیص کی-

خط کے مطابق، ’صدیقی نے سر پر کمبل پکڑا ہوا تھا اور ڈاکٹر سے نرمی سے کہا کہ میں خود کو مارنا نہیں چاہتی-‘ خط میں کہا گيا ہے کہ گزشتہ ماہ اگست میں ڈاکٹر صدیقی کے دس مرتبہ اور تاحال ماہ رواں ستمبر میں چھ مرتبہ حسب معمول نفسیاتی معائنے ہوچـکے ہیں۔

عافیہ صدیقی کی بوسٹن میں رہنے والی وکیل ایلین وٹفیلڈ شارپ نے کہا ہے کہ عافیہ صدیقی کی حالت کے متعلق اسی رپورٹیں متوقع تھیں کیونکہ وہ ایک دل ٹوٹی ہوئي ماں ہیں جن کے بچے ان سے جدا کیے گئے اور پھر انہیں جیل میں ڈال دیا گيا ہے- ایلین شارپ نے بتایا: ’ جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہے، عافیہ صدیقی کا رویہ، اس پر اس کا نارمل انسانی ردعمل ہے-‘

عافیہ صدیقی کی مادر علمی کے اخـبار نے لکھا ہے کہ وہ ایم آئي ٹی میں انیس سو پچانوے کی طالبہ تھیں اور انہوں نے پی ایچ ڈي برینڈیز یونیورسٹی سے کی ہے۔ وہ دو ہزار تین سے غائب بتائي گئي تھیں۔ اور ان کی شادی مبینہ دہشتگرد عامر البلوچي سے ہوئي ہے جو گوانتانامو بے میں قید ہیں-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد