انتخابی اہلیت کیس، سماعت ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی انتخابی اہلیت سے متعلق درخواستوں کی سماعت چودہ اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور تمام فریقوں کو از سر نو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کی ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عافیہ گمشدگی کیس میں عدالت نے حکومت کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے مزید ایک دن کی مہلت دی ہے۔ جسٹس موسیٰ لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ میاں نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دینے اور وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف کی اہلیت کو جانچنے کےلیے الیکشن ٹریبونل کے قیام کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی دائر کردہ دو ایک جیسی درخواستوں پر دو ماہ سے سماعت کر رہا ہے۔ منگل کے روز جب سماعت کا آغاز ہوا تو اس مقدمے کے ایک فریق پنجاب اسمبلی کے سپیکر کے وکیل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ ان کے دیگر ساتھی وکلاء جو میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہیں کسی دوسرے مقدمے کے سلسلے میں دوسری عدالت میں مصروف ہیں لہٰذا سماعت کچھ وقت کے لئے ملتوی کی جائے۔ ایک گھنٹے بعد سماعت کا جب دوبارہ آغاز ہوا تو مذکورہ وکیل اس وقت تک عدالت میں حاضر نہیں ہوئے تھے۔ اشتر اوصاف کی جانب سے سماعت دوبارہ ملتوی کرنے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے وکیل مخالف احمد رضا قصوری نے کہا کہ اتنے اہم مقدمے کو اس طرح سے التوا میں ڈالنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بھی میاں نواز اور شہباز شریف اس مقدمے میں براہ راست مدعی بھی نہیں ہیں لہٰذا ان کے پاس کیس ملتوی کروانے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ جسٹس موسٰی نے کہا کہ عدالت مقدمے کی حساس نوعیت کے باعث تمام فریقوں کو مناسب وقت دینا چاہتی ہے۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ کسی مقدمے کی سیاسی اہمیت جانچنا عدالت کا کام نہیں ہے اسے اپنی توجہ صرف قانونی حقائق تک محدود رکھنی چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مقدمے پر جلد از جلد فیصلہ سنایا جائے اس سے پہلے کہ اس نظام کی بھی بساط لپیٹ دی جائے۔ جسٹس موسٰی لغاری نے کہا کہ اتنی مایوسی اچھی نہیں ہوتی اور ویسے بھی نئے اٹارنی جنرل بھی اس مقدمے میں ابھی تک پیش نہیں ہوئے۔ ان ریمارکس کے بعد مقدمے کی سماعت چودہ اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ اور دیگر تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ دریں اثناء اسلام آباد کی ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بازیابی کے لیے دائر کردہ بیرسٹر اقبال جعفری کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت میں وفاقی حکومت کا جواب داخل نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے سماعت ایک دن کے لیے ملتوی کر دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم پر مشتمل عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ بدھ کے روز اپنا جواب عدالت میں جمع کروائیں۔ ڈاکٹر عافیہ کو حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست امریکی عدالت میں ان کی پیشی سے پہلے دائر کی گئی تھی جب وہ لاپتہ قرار دی گئی تھیں۔ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو فریق بناتے ہوئے ان سے ڈاکٹر عافیہ کی بازیابی کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت کے نوٹس کے باوجود وفاقی سیکرٹری داخلہ نے ان نکات پر عدالت میں جواب دائر نہیں کیا۔ جسٹس سردار محمد اسلم نے اپنے ریمارکس میں سیکرٹری داخلہ سے کہا کہ وہ اگلی سماعت کے موقعے پر وزارت کے کسی ذمہ دار افسر کی حاضری بھی یقینی بنائیں۔ بیرسٹر اقبال جعفری نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا اب جبکہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے، انہوں نے ایک نئی درخواست ہائیکورٹ میں جمع کروائی ہے جس میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی اپنی عدالت میں حاضری ممکن بنائیں اور اگر امریکی حکومت ان کے حکم کی تعمیل نہ کرے تو یہ معاملہ انصاف کی عالمی عدالت میں لیجانے کی اجازت دی جائے۔ | اسی بارے میں نوازشریف: نااہلی کی سماعت ملتوی30 June, 2008 | پاکستان شریف برادر: اہلیت کیس کا فیصلہ18 June, 2008 | پاکستان انتخابی اہلیت، شریف برادران کی طلبی05 June, 2008 | پاکستان نواز، شہباز اہلیت، فیصلہ محفوظ 30 May, 2008 | پاکستان ’عدالتی کارروائی قوم سے دھوکہ‘ 30 May, 2008 | پاکستان ’اپیل نہیں کی تھی لہذا نواز شریف نااہل ہیں‘26 May, 2008 | پاکستان نواز راولپنڈی سے دستبردار26 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||