عافیہ، منگل کو عدالت میں پیشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانچ برس سے لاپتہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایف بی آئی کی حراست میں نیویارک پہنچا دیا گیا ہے جہاں انہیں امریکی فوجیوں اور اہلکاروں پر حملے کے الزام میں منگل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ نیویارک میں ایف بی آئی اور نیویارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی کی طرف سے جاری کیئے جانے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو ایک ماہ قبل افغانستان میں غزنی کے صوبے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اٹھارہ جولائی کو ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک تفتیشی ٹیم پر ایک فوجی کی بندوق چھین کر فائرنگ کر دی تھی۔ اس ٹیم میں شامل ایک امریکی فوجی کی جوابی فائرنگ اور اس کے بعد کشمکش میں ڈاکٹر عافیہ زخمی ہو گئی تھیں۔ اس بیان کے مطابق ڈاکٹر عافیہ ایف بی آئی کو کافی عرصے سے دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھیں۔ اس بیان میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو غزنی میں گورنر کی رہائش گاہ کے احاطے سے افغان پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق افغان پولیس کو شیشے کے مرتبانوں اور بوتلوں میں سے کچھ دستاویزات ملی تھیں جن میں بم بنانے کے طریقے درج تھے۔ اس بیان میں کہا گیا ڈاکٹر عافیہ ایک کمرے میں بند تھیں۔ جب ان سے تفتیش کے لیے ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک ٹیم پہنچی تو انہوں نے پردے کے پیچھے سے ان پر دو گولیاں چلائیں لیکن وہ کسی کو نشانہ نہ بنا سکیں۔ چھتیس سالہ ڈاکٹر عافیہ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہیں اور مبینہ طور پر القاعدہ کی رکن ہیں۔ سن دو ہزار تین میں کراچی سے ان کی گمشدگی کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ڈاکٹر عافیہ اور ان کے تین بچوں کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سن دو ہزار چار میں اس وقت کے امریکی اٹارنی جنرل ایشکرافٹ اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ مولر نے ڈاکٹر عافیہ کو القاعدہ کے ان ارکان میں شامل کیا تھا جو کہ امریکہ کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھے۔ | اسی بارے میں ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید‘24 July, 2008 | پاکستان حبس بے جا کی درخواست منظور29 July, 2008 | پاکستان وزارت داخلہ کو نوٹس جاری30 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||