ڈاکٹرعافیہ، بیٹا خالہ کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقدام قتل سمیت مختلف الزامات کے تحت نیو یارک میں مقدمات کا سامنا کرنے والی پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بیٹے محمد احمد کو سوموار کے روز پاکستان حکام نے ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کے حوالے کر دیا ہے۔ اس سے قبل محمد احمد کو شام کے وقت کابل سے اسلام آباد ائر پورٹ لایا گیا جہاں سے پاکستانی حکام احمد کو ان کی خالہ فوزیہ صدیقی کے گھر لے کر گئے۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فوزیہ صدیقی نے کہا کہ یہ سب پاکستانی عوام اور میڈیا کی وجہ سے ہوا ہے کہ وہ آج محمد احمد سے مل پائی ہیں۔ ’احمد اس وقت صدمے کی حالت میں ہیں اور ایک زندہ لاش کی مانند ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ بڑے ہو گئے ہیں اور آخری بار جب میں ان سے ملی تھی تو وہ بالکل چھوٹے سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی پر الزام نہیں عائد کرنا چاہتیں ’لیکن میں چاہتی ہوں کہ میں احمد کو اتنا پیار دوں کے وہ یہ تمام واقعات بھول جائے‘۔
اس سے قبل افغان حکام نے کابل میں محمد احمد کو پاکستان سفارتخانے کے حوالے کیا۔ فوزیہ صدیقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیدائش کے بعد ان کی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اس بچے کا نام محمد احمد رکھا تھا۔ تاہم دوران حراست جیسے جیسے اس کی حراست کی جگہیں تبدیل کی گئیں اسی طرح اس کے نام بھی تبدیل کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے حوالے کیے جانے سے قبل محمد احمد کا نام علی احسن رکھا گیا تھا۔ فوزیہ نے کہا کہ احمد نے کہا ہے کہ اس کو علی احسن کے نام سے بلایا جائے۔ |
اسی بارے میں عافیہ شدید ذہنی دباؤمیں: ڈاکٹر13 September, 2008 | پاکستان عافیہ، منگل کو عدالت میں پیشی 05 August, 2008 | آس پاس عافیہ کا عدالت میں ایک دن06 August, 2008 | آس پاس ڈاکٹر عافیہ کا الزامات سے انکار06 August, 2008 | آس پاس القاعدہ سے تعلق کا الزام نہیں03 September, 2008 | آس پاس عدالت میں پیش ہونے سے انکار05 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||