BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 September, 2008, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹرعافیہ، بیٹا خالہ کے حوالے

محمد احمد
’احمد اس وقت صدمے کی حالت میں ہیں اور ایک زندہ لاش کی مانند ہیں: فوزیہ
اقدام قتل سمیت مختلف الزامات کے تحت نیو یارک میں مقدمات کا سامنا کرنے والی پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بیٹے محمد احمد کو سوموار کے روز پاکستان حکام نے ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کے حوالے کر دیا ہے۔

اس سے قبل محمد احمد کو شام کے وقت کابل سے اسلام آباد ائر پورٹ لایا گیا جہاں سے پاکستانی حکام احمد کو ان کی خالہ فوزیہ صدیقی کے گھر لے کر گئے۔


بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فوزیہ صدیقی نے کہا کہ یہ سب پاکستانی عوام اور میڈیا کی وجہ سے ہوا ہے کہ وہ آج محمد احمد سے مل پائی ہیں۔

’احمد اس وقت صدمے کی حالت میں ہیں اور ایک زندہ لاش کی مانند ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ بڑے ہو گئے ہیں اور آخری بار جب میں ان سے ملی تھی تو وہ بالکل چھوٹے سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی پر الزام نہیں عائد کرنا چاہتیں ’لیکن میں چاہتی ہوں کہ میں احمد کو اتنا پیار دوں کے وہ یہ تمام واقعات بھول جائے‘۔

محمد احمد یا علی احسن
فوزیہ صدیقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیدائش کے بعد ان کی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اس بچے کا نام محمد احمد رکھا تھا۔ تاہم دوران حراست جیسے جیسے اس کی حراست کی جگہیں تبدیل کی گئیں اسی طرح اس کے نام بھی تبدیل کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے حوالے کیے جانے سے قبل محمد احمد کا نام علی احسن رکھا گیا تھا۔ فوزیہ نے کہا کہ احمد نے کہا ہے کہ اس کو علی احسن کے نام سے بلایا جائے۔

اس سے قبل افغان حکام نے کابل میں محمد احمد کو پاکستان سفارتخانے کے حوالے کیا۔

فوزیہ صدیقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیدائش کے بعد ان کی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اس بچے کا نام محمد احمد رکھا تھا۔ تاہم دوران حراست جیسے جیسے اس کی حراست کی جگہیں تبدیل کی گئیں اسی طرح اس کے نام بھی تبدیل کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے حوالے کیے جانے سے قبل محمد احمد کا نام علی احسن رکھا گیا تھا۔ فوزیہ نے کہا کہ احمد نے کہا ہے کہ اس کو علی احسن کے نام سے بلایا جائے۔

قیدی نمبر650
’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید ہیں‘
ڈاکٹر عافیہامریکی جج حیران
’عافیہ کےگولی کے زخم کا نرس سے علاج‘
ڈاکٹر عافیہحکم کی تعمیل
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا جیل میں طبی معائنہ
ڈاکٹر عافیہ کے حمایتیعافیہ کا احتجاج
ڈاکٹر عافیہ پھرعدالت میں نہیں آئیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد