BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 September, 2008, 04:02 GMT 09:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ سے تعلق کا الزام نہیں

 ڈاکٹر عافیہ
ڈاکٹر عافیہ پانچ سال سے لاپتہ تھیں۔
افغانستان میں امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر خطرناک مہلک ہتھیار سے حملہ کرنے کے الزام میں امریکہ میں قید پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیخلاف فرد جرم جمعرات کو عائد کی جائيگي-

یہ بات عافیہ صدیقی کی ایک دفاعی وکیل ایلین شارپ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بوسٹن سے بتائي۔

ایلین شارپ نے بتایا کہ ڈاکٹر صدیقی پر امریکی سیکیورٹی اہلکاروں پر ان کی ہی رائیفل چھین کر قتلانہ حملہ کرنے کے دو الزامات لگائے جائیں گے۔

عافیہ صدیقی پر مجموعی طور پر چھ الزامات عائد کیے جائیں گے جن کے ثابت ہونے پر انہیں زیادہ سے زیادہ بیس سال کی سزا مل سکتی ہے-

ایلن شارپ کے مطابق ’انہوں نے (امریکی حکومت نے) ڈاکٹرعافیہ کیخلاف دہشتگرد تنظیم سے تعلق ہونے کا الزام نہیں لگایا ہے جوحیران کن بات ہے-‘

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ
ڈاکٹر عافیہ نے اعلی تعلیم امریکہ سے حاصل کی

ایلین شارپ اس سے قبل عافیہ صدیقی کی مبینہ گمشدگی اور دوسرے امور پر بھی انکےخاندان کیطرف سے مقدمے لڑتی رہی ہیں-

پانچ برس سے لاپتہ پاکستانی ڈاکٹر کو گزشتہ ماہ عدالت کے سامنے پیش کیاگیا تھا۔

نیویارک میں ایف بی آئی اور نیویارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی نے کہا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان میں غزنی کے صوبے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عافیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اٹھارہ جولائی کو ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک تفتیشی ٹیم پر ایک فوجی کی بندوق چھین کر فائرنگ کر دی تھی۔ اس ٹیم میں شامل ایک امریکی فوجی کی جوابی فائرنگ اور اس کے بعد کشمکش میں ڈاکٹر عافیہ زخمی ہو گئی تھیں۔

اس بیان کے مطابق ڈاکٹر عافیہ ایف بی آئی کو کافی عرصے سے دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھیں۔

امریکی محکمہء انصاف کی پریس ریلیز کے مطابق ڈاکٹر صدیقی کی تحویل سے ملنے والے سامان میں سے ہاتھ سے تحریر کردہ نوٹس ملے جن میں قتل عام کے مبینہ منصوبے شامل تھے۔ ان میں نیویارک کے اہم مقامات اور عمارات کے بارے میں تفصیلات شامل تھیں-

حسب ممعول، امریکی محکمء انصاف کے بیان کے آخر میں ایک سطر میں درج ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک بے گناہ ہی مانا جائے گا جبتک عدالت میں اسکے خلاف الزامات ثاب نہیں ہو جاتے-

اسی بارے میں
وزارت داخلہ کو نوٹس جاری
30 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد