ڈاکٹرعافیہ، بیٹا پاکستان کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقدام قتل سمیت مختلف الزامات کے تحت نیو یارک میں مقدمات کا سامنا کرنے والی پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے پراسرار طور پر لاپتہ بیٹے محمد احمد کو افغان حکام نے پیر کو کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے حوالے کردیا ہے۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ وہ اس بارے میں مزید تفصیلات حاصل کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق محمد احمد کو جلد سے جلد پاکستان لایا جائے گا۔ ادھر کابل میں پاکستانی سفاتخانے کے ایک اہلکار نعیم خان نے بھی محمد احمد کی بازیابی کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان کی حالت بہتر ہے۔ تاہم انہوں نے گیارہ سالہ محمد احمد سے بات کرانے سے معذرت کی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے پانچ برس قبل تین بچوں سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ کی پر اسرار حراست کے بارے میں پاکستان اور امریکی حکام انکار کرتے رہے ہیں۔ لیکن امریکہ نےگزشتہ جولائی میں ان کی افغانستان سے حراست ظاہر کی اور ان پر الزام لگایا کہ ڈاکٹر عافیہ نے امریکی فوجیوں پر فائرنگ کر کے انہیں قتل کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ ان دنوں امریکہ کی حراست میں ہیں اور نیو یارک کی ایک عدالت میں ان پر اقدام قتل سمیت مختلف الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ کی بڑی بہن فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کا ایک بھتیجا پراسرار گمشدگی کے دوران فوت ہوگیا ہے۔ انہوں نے شبہہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی آٹھ سالہ بھتیجی بھی افغانستان میں ہی ہوسکتی ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کے سرکردہ رہنما خالد شیخ محمد کے بھتیجے کی اہلیہ ہیں۔ خالد شیخ محمد کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ نائن الیون کے سرغنہ ہیں۔ |
اسی بارے میں عافیہ شدید ذہنی دباؤمیں: ڈاکٹر13 September, 2008 | پاکستان عافیہ، منگل کو عدالت میں پیشی 05 August, 2008 | آس پاس عافیہ کا عدالت میں ایک دن06 August, 2008 | آس پاس ڈاکٹر عافیہ کا الزامات سے انکار06 August, 2008 | آس پاس القاعدہ سے تعلق کا الزام نہیں03 September, 2008 | آس پاس عدالت میں پیش ہونے سے انکار05 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||