BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2009, 17:42 GMT 22:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاسوسوں کی بیخ کنی، ڈرون حملے کم

طالبان
القاعدہ اور طالبان کی جاسوسی کرنا ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے جس میں شامل کئی افراد ایک کڑی کی صورت میں کام کرتے ہیں

پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں کی نسبت جنوبی اور شمالی وزیرستان میں سرحد پار افغانستان سے گزشتہ کئی سالوں سے جاری امریکی جاسوسی طیاروں کے میزائل حملوں میں شدت آئی ہے لیکن شمالی وزیرستان میں حیرت انگیز طور پر لگ بھگ ایک ماہ سے کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔

شمالی وزیرستان میں میرانشاہ کے قریب تبئی طول خیل میں آخری امریکی میزائل حملہ سولہ دسمبر کو ہوا تھا جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے حالانکہ اس کے مقابلے میں جنوبی وزیرستان میں حملے بڑھ گئے ہیں۔

اسکی وجوہات جاننے کے لیے جب وزیرستان میں مختلف طالبان کمانڈروں سے گفتگو ہوئی تو اسکی ایک یہ وجہ بھی سامنے آئی کہ طالبان کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران مبینہ طور پر جاسوسی کرنے والے ایک درجن سے زیادہ افراد کو قتل کرنے کے بعد حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ایک طالب رہنماء کا دعویٰ ہے کہ شمالی وزیرستان میں امریکہ اور افغان حکومت کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کے کئی نیٹ ورک سرگرمِ عمل ہیں جنہیں انہوں نے حالیہ دنوں میں بہت حد تک کمزور کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ اور طالبان کی جاسوسی کرنا ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے جس میں شامل کئی افراد ایک کڑی کی صورت میں کام کرتے ہیں۔

منافع بخش
 تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جاسوسی کرنے والے شخص کے ساتھ عرب جنگجوؤں کے بارے میں معلومات دینے اور حملے میں معاونت کی خاطر ان کے ٹھکانے میں مخصوص’چِپ‘ رکھنے کے عوض دس ہزار ڈالر دینے کا وعدہ ہوتا ہے لیکن بعد میں مختلف لوگوں کے ہاتھوں سے ہوتے ہوئے اسے محض ستر ہزار یا ایک لاکھ روپے تک ملتے ہیں۔
طالب کمانڈر

انکے بقول انہوں نے جاسوسی کے الزام میں جن افراد کو گرفتار کیا ہے ان سے ملنے والی معلومات کے مطابق جاسوسی کرنے کی بھرتی اور تربیت شمالی وزیرستان سے متصل افغانستان کے مشرقی صوبے خوست میں دی جاتی ہے۔

ایک اور طالب کمانڈر کے بقول تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جاسوسی کرنے والے شخص کے ساتھ عرب جنگجوؤں کے بارے میں معلومات دینے اور حملے میں معاونت کی خاطر ان کے ٹھکانے میں مخصوص’چِپ‘ رکھنے کے عوض دس ہزار ڈالر دینے کا وعدہ ہوتا ہے لیکن بعد میں مختلف لوگوں کے ہاتھوں سے ہوتے ہوئے اسے محض ستر ہزار یا ایک لاکھ روپے تک ملتے ہیں۔

ان سے سوال کیا گیا کہ انہیں کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کون شخص جاسوسی میں مبینہ طور پر ملوث ہے تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے اس قسم کے افراد کے لیے اپنا ایک گروپ بھی تشکیل دیا ہے اور جبکہ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ لوگ خودکش حملہ آور بننے کے لیے آئے ہیں جنہیں بعد میں بعض مشکوک حرکات و سکنات کی وجہ گرفتار کیا گیا ہے۔ ان لوگوں سے تفتیش کے دوران انہوں نے نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ باقی لوگوں کےبارے میں بتا دیا ہے۔

ان کے مطابق جو لوگ مبینہ طور پر جاسوسی میں ملوث پائے گئے ہیں ان میں زیادہ تر ٹیکسی ڈرائیور، حجام، میکینک، مستری، مزدوری کے پیشوں سے منسلک تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شمالی وزیرستان میں انہوں نےگزشتہ کچھ عرصے میں درجن بھر سے زیادہ لوگوں کو جاسوسی کے الزام میں قتل کیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے جاسوسی طیاروں کے حملے نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم انکا کہنا ہے کہ جاسوسی کا نیٹ ورک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے اور ممکن ہے کہ کوئی حملہ ہوجائے۔

 جو لوگ جاسوسی میں ملوث پائے گئے ہیں ان میں زیادہ تر ٹیکسی ڈرائیور، حجام، میکینک، مستری، مزدوری کے پیشوں سے منسلک تھے۔
طالبان

انہوں نے کہا کہ پہلے وہ جس شخص کو جاسوسی کے الزام میں پکڑتے تھے اس کو ہم قبیلہ ہونے کے ناطے کسی کی سفارش پر رہا بھی کردیتے تھے مگر اب انہوں نےشمالی وزیرستان میں اس پر پابندی لگا دی ہے۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں کئی سالوں کے دوران درجنوں افراد کو جاسوسی کے الزام میں ہلاک کیا گیا ہے جن میں سے بعض افراد کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بےگناہ تھے۔ اب بھی طالبان پر یہ الزام لگتا ہے کہ بعض اوقات وہ بے گناہ افراد کو جاسوسی کے الزام میں قتل کردیتے ہیں۔

پچھلے سال دسمبر میں بھی طالبان نے پانچ افراد کی ویڈیو ٹیپ جاری کی تھی جس میں انہوں نے میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے القاعدہ رہنماء ابو للیث الیبی کی مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ان افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کام کے عوض ایک کو پندرہ جبکہ باقی چار کو دس دس لاکھ روپے دیئے گئے تھے۔

سرحد پار افغانستان سے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں کو امریکی حکام بہت مؤثر حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جس میں انہوں نے القاعدہ کے کئی اہم رہنماؤں کو نہ صرف ہلاک کیا ہے بلکہ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے اس حکمت عملی کے ذریعےالقاعدہ کی تنظیمی صلاحیت کو بھی ایک حد تک کمزور کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
وزیرستان، دو ’جاسوس‘ ہلاک
12 January, 2009 | پاکستان
حکومت کو طالبان کی دھمکی
11 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد