عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | ’دونوں کا تعلق کینیا سے تھا اور ان کا نام امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا‘ |
پاکستان میں حکومتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں یکم جنوری کو مبینہ امریکی میزائل حملے میں القاعدہ کے دو اہم رہنماء ہلاک ہوگئے تھے تاہم سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی جارہی ہے۔ امریکی انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں نے بھی کہا ہے کہ اُسامہ الکنی اور ان کے ساتھی شیخ احمد سلیم السوئدان حالیہ دنوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک حکومتی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا یکم جنوری کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے غواء خواء کے شوکئی نرئی علاقے میں جو مبینہ امریکی میزائل حملہ ہوا تھا اس میں القاعدہ کے اہم رہنماء اسامہ الکنی ، شیخ احمد سلیم اور ایک پنجابی طالب ہلاک ہوئےتھے۔ ان کے مطابق اسامہ الکنی کا مقامی نام زمرئی( شیر) تھا جو روانی کے ساتھ پشتو بول سکتے تھے۔ جبکہ ان کے معاون شیخ احمد سلیم کا مقامی نام یعقوب تھا جنہیں انجینئر صاحب کہہ کر پکاراجاتا تھا۔ان کے بال گھنگریالے اور رنگت کالی تھی۔ انہوں کا کہنا تھا کہ اسامہ الکنی، شیخ احمد سلیم اور ایک پنجابی طالب یکم جنوری کواس وقت ڈرون حملے کا نشانہ بنے جب تینوں اپنے دیسی ساخت کے ایک ایسے میزائل کے تجربے میں مصروف تھے جس سے ڈرونز کو ہدف بنایا جاسکتا تھا۔ اہلکار نے القاعدہ کے ان دونوں اہلکاروں کے میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے میں مبینہ طور ملوث ہونے سے لاعلمی ظاہر کی البتہ انہوں نے کہا کہ دو جون دو ہزار آٹھ میں اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارتخانے پر ہونے والےحملے میں اسامہ الکنی کا مبینہ طور پر ہاتھ تھا۔ اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں امریکی اہلکار کے حوالے سے جو خبر جاری کی گئی ہے اس میں صرف ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔ انوں نے مزید کہا امریکی حکام نے ابھی تک سرکاری سطح پر انہیں کوئی اطلاع نہیں فوجی ترجمان نے کہا کہ انہوں نے اپنی سطح پر تفتیش شروع کردی ہے۔ امریکی انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں نے بھی دعوٰی کیا ہے کہ اسامہ الکنی اور ان کے ساتھی شیخ احمد سلیم السوئدان حالیہ دنوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ دونوں کا تعلق کینیا سے تھا اور ان کا نام امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ ان پر انیس سو اٹھانوے کو تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ یاد رہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران ڈرونز حملوں میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ اس دوران القاعدہ کے کچھ اہم رہنماؤں کی ہلاکت کے بھی دعوی کیے گئے ہیں۔ان میں ابو حمزہ ربیہ ، ابو اللیث اللیبی، ابوخباب المصری، عبدالرحمان المہاجر، راشد رؤف اور ابو جہاد شامل ہیں۔ |