پاکستان میں بغیر پائلٹ کے طیارے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ ان کے ملک کے اندر براہ راست حملے کرنے کے بجائے جاسوس طیارے پاکستان کو دے پاکستان تا کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف خود کارروائی کرے۔ لیکن پاکستان میں ایسی کمپنیاں موجود ہیں جو نہ صرف جاسوس طیارے بناتی ہیں بلکہ امریکہ سمیت دوسرے کئی ممالک کو یہ طیارے برآمد بھی کرتی ہیں۔ پھرصدر زرداری کو امریکہ سے یہ مطالبہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور آیا پاکستانی جاسوس طیارے بھی اتنے ہی جدید اور لڑاکا ہیں جتنے سرحد پار سے آنے والے امریکی طیارے۔ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ملک میں ایسی کم سے کم دو کمپنیاں ہیں جو نہ صرف ڈرون یا جاسوس طیارے بناتی ہیں بلکہ بغیر پائلٹ کے ہوا میں چلنے والی دوسری اشیا بھی تیار کرتی ہیں۔ ان میں ایک کمپنی تو کراچی میں قائم ہے جس کا نام آئی ڈی یا انٹی گریٹڈ ڈائنامکس ہے اور دوسری کمپنی ایسٹ ویسٹ انفینٹی ہے جو راولپنڈی میں واقع ہے۔ ایسٹ ویسٹ انفینٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہارون جاوید قریشی کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی میں بننے والے بغیر پائلٹ والے جاسوس طیارے جسے انگلش میں یو اے وی کہتے ہیں، ان امریکی طیاروں جیسے نہیں ہیں جو سرحد پار سے آکر پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔
’یہ آج کل جو بہت ذکر ہو رہا ہے، پریڈیٹر کا اور ریپر کا، انہیں میں سپر ڈرونز کا نام دوں گا۔ پاکستان میں جو ڈرونز بن رہے ہیں یہ سب بہت ہی محدود صلاحیت کے مالک ہیں تقریباً سو کلومیٹر کی ان کی رینج ہوتی ہے اور لگ بھگ تین چار گھنٹے تک ہوا میں رہ سکتے ہیں اور اوپر سے جو بھی یہ چیز دیکھ رہے ہوتے ہیں یہ دن میں یا رات میں اس کو ریلے کرنے کی رینج بھی بہت کم ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ پچاس ساٹھ ستر کلومیٹر تک‘۔ جاسوس طیارے بنانے والی پاکستانی کمپنی انٹگریٹڈ ڈائنامکس کی ویب سائیٹ کے مطابق یہ ادارہ بغیر پائلٹ کے چلنے والے جاسوس طیارے دوسرے ملکوں کو بھی برآمد کرتا ہے جن میں امریکہ، آسٹریلیا، اٹلی اور سپین جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ اور دوسرے ممالک پاکستان میں بننے والے ان طیاروں کو کیوں خریدتے ہیں؟ اور کس کام میں لاتے ہیں؟ اس کا جواب جاننے کے لئے میں نے ک؟ئی بار اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راجہ خان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکا۔ ایسٹ ویسٹ انفینٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہارون جاوید قریشی نے البتہ اس سوال کا جواب معلوم کرنے میں میری مدد ضرور کی۔ انہوں نے بتایا کہ ’آئی ڈی کے جو یو اے ویز ایکسپورٹ ہوئے ہیں انہیں فوجی استعمال میں نہیں بلکہ سویلین اور جزوی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے استعمال میں لایا گیا ہے‘۔ ہارون جاوید قریشی نے بتایا کہ باہر کے ممالک پاکستان میں بننے والے مائکرو یو اے ویز یا چھوٹے جاسوس طیارے اس لئے بھی خریدتے ہیں کہ ان کی قیمت بہت کم ہوتی ہے۔ ’ایسی ٹیکنالوجی یورپ اور امریکہ میں دستیاب ہے لیکن وہ فوجی قیمت پر بکتی ہے۔ چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی کئی ہزار ڈالر میں بکتی ہے جب کہ ہم اس کو کئی ہزار روپے کہہ سکتے ہیں تو جو قیمت کا فرق ہے وہ کم از کم ایک تین یا ایک چار یا ایک پانچ کے تناسب کا‘۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی بغیر پائلٹ کے چلنے والی ایسی اور بھی مصنوعات بناتی ہے جو فوجی اور سویلین مقاصد کے لئے استعمال ہوسکتی ہیں۔ ان میں ایک ٹیکنالوجی وسپر واچ ہے جو فضا میں بلند ہوکر ڈھائی سو مربع کلومیٹر کے علاقے میں ریڈیو، موبائل یا سٹیلائٹ فون پر ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ کرسکتی ہے۔ ہارون جاوید قریشی کے مطابق وسپر واچ کو فضا میں بھیجنے کے لئے جس گاڑی کی ضرورت پڑتی ہے اسے ائربورن آئیز یعنی آسمان میں آنکھیں کا نام دیا گیا ہے۔
”وہ ایک ائرشپ ہے جس میں ہیلئم گیس بھری جاتی ہے اور وہ غبارے جیسا بن جاتا ہے لیکن عام غبارے سے اس کا فرق یہ ہے کہ اس کے اندر انجن ہوتا ہے اور اسے آپ جدھر لے جانا چاہیں لے جا سکتے ہیں اسے ہوا میں معلق کرسکتے ہیں۔ آپ کھڑے ہوجائیں اور زمین پر جو منظر نظر آئے اسے دیکھتے رہیں اور اس کی تصاویر اور فلم بھجواتے رہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی افواج نہ صرف ان کی کمپنی کی مصنوعات خریدتی ہے بلکہ اب خود بھی مائیکرو ڈرونز تیار کرتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ہارون جاوید قریشی نے بتایا کہ پاکستان اگلے دس سالوں میں اس قابل ہوجائے گا کہ وہ ایسے جاسوس طیارے تیار کرسکے جو میزائل سے حملہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔ | اسی بارے میں میر علی: میزائل حملہ، چار ہلاک22 November, 2008 | پاکستان فوج کی ڈرون گرانے کی مشقیں شروع21 November, 2008 | پاکستان اقوامِ متحدہ میں جائیں: مسلم لیگ20 November, 2008 | پاکستان ’پاکستان پر حملے رک جائیں گے‘20 November, 2008 | پاکستان ’ڈرون طیاروں کی پروازیں بند کریں‘20 November, 2008 | پاکستان بنوں، میزائل حملہ، پانچ ہلاک19 November, 2008 | پاکستان حملے ریاستی تشدد: بیت اللہ محسود16 November, 2008 | پاکستان امریکی میزائل حملے اور طالبان کی مقبولیت15 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||