اقوامِ متحدہ میں جائیں: مسلم لیگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے امریکی افواج کی جانب سے پاکستانی جغرافیائی حدود کی زمینی اور فضائی خلاف ورزیوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کی صبح بنوں میں ہوئے میزائل حملے پر قومی اسمبلی میں ہونے والی غیر رسمی بحث میں حصلہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت امریکہ کے سامنے ان حملوں پر بے بسی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے باغیرت قوم کی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے دستیاب سفارتی آپشنز استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کی ساتھ جنگ کرنے کی بات نہیں کر رہے لیکن اگر یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے جایا جائے تو یہ بین الاقوامی سفارتی آداب کے منافی نہیں ہو گا۔ چوہدری نثار نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر اس کے باوجود امریکی حکومت پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف حملوں سے باز نہ آئے تو پھر افغانستان میں جاری جنگ میں پاکستان جو سہولیات اسے فراہم کر رہا ہے، وہ واپس لے لی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جس طرح امریکی حملے ہو رہے ہیں دنیا کی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔
چوہدری نثار نے کہا کہ پرویز مشرف کو تو اقتدار میں رہنے کے لیے امریکی حمایت کی ضرورت تھی، موجودہ حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ بھی محض بیانات جاری کرنے کے علاوہ اپنی سر زمین پر امریکی کارروائیوں کو روکنے کے لیے عملاً کچھ نہیں کر پا رہی۔ نواز لیگ ہی کے احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت سابق صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں پر زیادہ شدت سے عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف دور میں تو امریکی حملے قبائلی علاقوں تک محدود تھے لیکن اب یہ کارروائیاں شہری علاقوں تک پھیل رہی ہیں اور اگر انہیں اب بھی روکا نہ گیا تو اگلا نشانہ اسلام آباد بھی ہو سکتا ہے۔ سابق صدر کی شریک اقتدار رہنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رکن امیر مقام نے کہا کہ صدر مشرف کے دور میں تو آٹھ مہینے میں ایک حملہ ہوتا تھا اور اس دور میں تو ایک مہینے میں آٹھ حملے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تو امریکی جاسوس طیارے پشاور پر پرواز کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ جمعیت علما اسلام (ف) کے مولانا عطا الرحمٰن نے کہا کہ امریکی حملے تو قابل مذمت ہیں ہی، ہمیں اپنی افواج کی جانب سے بھی نہتے قبائلیوں پر ہونے والی بمباری کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ صوبائی رابطوں کے وفاقی وزیر سینیٹر رضا ربانی نے سرکاری مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر متاثرہ علاقے میں گئے تھے جسکے بعد حکومت کی اس بارے میں ایک مربوط حکمت عملی سامنے آئے گی۔ رضا ربانی نے چوہدری نثار علی خان کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی حکومت اتنے حساس معاملے پر ردعمل اس وقت تک نہیں دے سکتی جب تک پوری قوم اس بارے میں یک جان نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے حصول کے لیے حکومت نے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی ہے جو بہت جلد اس بارے میں پالیسی تیار کر لے گی۔ اس سے پہلے بنوں پر امریکی میزائل حملے کا معاملہ ایوان میں زیربحث لاتے ہوئے قبائلی علاقوں سے رکن قومی اسمبلی ظفر بیگ بھٹانی نے ایوان سے احتجاجً واک آؤٹ کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت بیگناہ قبائلیوں کی ہلاکت پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ تاہم وہ اپنے واک آؤٹ کے اعلان پر عمل نہیں کر سکے کیونکہ وزیر اطلاعات شیری رحمٰن اور پیپلز پارٹی کے چیف وہپ خورشید شاہ انہیں راستے ہی سے منا کر وزیراعظم کی نسشت پر لے آئے جہاں وہ کافی دیر تک وزیراعظم کی برابر والی نشست پر بیٹھے ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے رہے۔ | اسی بارے میں امریکی حملے، ’ڈٹ جاؤ یا بیان بند کرو‘12 November, 2008 | پاکستان بنوں، میزائل حملہ، پانچ ہلاک19 November, 2008 | پاکستان امریکی میزائل حملے اور طالبان کی مقبولیت15 November, 2008 | پاکستان امریکی میزائل حملے میں ہلاکتیں14 November, 2008 | پاکستان ’اب حملے برداشت نہیں کریں گے‘11 November, 2008 | پاکستان وزیرستان میزائل حملہ، گیارہ ہلاک07 November, 2008 | پاکستان امریکی حملے میں’پانچ ہلاک‘30 September, 2008 | پاکستان ’امید ہے اب حملے نہیں ہوں گے‘16 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||