BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 November, 2008, 07:09 GMT 12:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنوں، میزائل حملہ، پانچ ہلاک

جارج بُش کے خلاف مظاہرہ
یہ پہلی بار ہے کہ امریکی جاسوس طیارے کے ذریعے صوبہ سرحد کے اندر ایک گاؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے

صوبہ سرحد کے ضلع بنوں میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مبینہ امریکی میزائل حملے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میزائل سرحد پار افغانستان سے داغے گئے ہیں تاہم حکام سرکاری طور پراس بارے میں کچھ کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔

ایک اعلٰی سکیورٹی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ساڑھے تین بجے سرحد پار افغانستان سے صوبہ سرحد کے ضلع بنوں میں واقع زندہ خیل کے علاقے میں ایگ گھر پر دو میزائل داغے گئے ہیں۔ ان کے بقول حملوں میں پانچ افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے ترجمان سے رابطہ کی بارہا کوشیں کی گئیں مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں دو غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

بنوں کے ضلعی پولیس افسر محمد عالم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کوئی غیر ملکی نہیں ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ امریکی جاسوس طیارے کے ذریعے صوبہ سرحد کے اندر ایک گاؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے ان فضائی حملوں کا ہدف قبائلی علاقے رہے ہیں۔

بنوں سے موصولہ تفصیلات کے مطابق یہ حملہ شہر سے جنوب کی جانب یونین کونسل جنی خیل کے علاقے زندہ خیل میں ایک مکان پر امریکی جاسوس طیارے سے حملہ کیا گیا۔

ضلعی پولیس سربراہ کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد مقامی ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گاہے بگاہے امریکی جاسوس طیاروں سے حملے ہوتے رہے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہے کہ صوبہ سرحد کے ایک گاؤں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاع کا دعوٰی ہے کہ ان فضائی حملوں کے بارے میں امریکی اور پاکستانی حکومت کے درمیان غیر تحریری معاہدہ موجود ہے جبکہ پاکستانی وزیر خارجہ نے اس قسم کی کسی ’انڈرسٹینڈنگ’ سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ حکومت اب قبائلی علاقوں میں امریکی حملے برداشت نہیں کرے گی۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی رکن ماروی میمن کی جانب سے حملوں پر نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ایک مہینے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکہ کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجہ میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی حملے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں فائدے کی بجائے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ امریکی فوجی جنرل ڈیوڈ پیٹریئس کہہ چکے ہیں وہ ان حملوں سے متعلق پاکستان کی تنقید پر غور کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد