BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 November, 2008, 12:02 GMT 17:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملے ریاستی تشدد: بیت اللہ محسود

ڈرون
طالبان کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا
کلعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے حکومت اور فوجی قیادت پر سوات اور قبائلی علاقوں میں جاری کارروائیوں کو ’ریاستی تشدد‘ کا نام دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے آپ کو بیت اللہ محسود کا ذاتی ترجمان قرار دینے والے ایک شخص رحمان محسود نے بی بی سی ارود سروس سے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے رہنما کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز ’جس بہیمانہ طریقے سے عام لوگوں پر بمباری کر رہی ہے انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ شہداء لاوراث نہیں ہیں۔ ان کا انتقام ضرور لیا جائے گا۔‘یہ پیغام اردو میں ریکارڈ کروایا گیا۔

پیغام
 حکومت ایک جانب مذاکرات کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں اور دوسری جانب آئے دن بےگناہ لوگوں پر مظالم کر رہی ہے

تحریک کے باضابطہ ترجمان مولوی عمر سے رابطہ نہ ہوسکنے پر ذاتی ترجمان کے ذریعے بھیجے گئے اس پیغام میں مرکزی اور سرحد میں برسراقتدار سیاسی جماعتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ’حکومت ایک جانب مذاکرات کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے اور دوسری جانب آئے دن بےگناہ لوگوں پر مظالم کر رہی ہے۔‘

اگرچہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ کئی ماہ سے سوات اور باجوڑ کے علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس پیغام کی اس موقع پر جاری کرنے کی ضرورت خاص طور پر کیوں محسوس کی گئی۔

مولوی عمر کے باضابطہ ترجمان مقرر ہونے کے بعد سے بیت اللہ محسود نے خود بیانات جاری کرنا بند کر دیا تھا۔ ان کی موت کی افواہوں کے گزشتہ دنوں سامنے آنے کے باوجود انہوں نے ابھی تک کسی میڈیا سے خود بات نہیں کی ہے۔

پیغام میں کہا گیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں سے ظاہر ہے کہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ ’انہیں محض مذمتی بیان جاری کرنے کی حد تک اختیار دیا گیا ہے۔ وہ صرف ان احکامات کی تکمیل کرتے ہیں جو امریکہ سے آتا ہے۔‘

اس بیان پر اب تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ جس شدید ردعمل کی وہ بات کر رہے ہیں وہ کس قسم کا ہوسکتا ہے رحمان محسود کا کہنا تھا کہ اس کی قبل اّز وقت نشاندہی نہیں کی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں
ڈرون حملوں پر سینیٹ کی مذمت
27 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد