وزیرستان، دو ’جاسوس‘ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مشتبہ طالبان نے امریکیوں کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں دو افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔ ہلاک ہونے والے دونوں سگے بھائی بتائے جاتے ہیں۔ پولیٹکل حکام کے مطابق پیر کو شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی کے بازار میں جامع مسجد کے سامنے دو لاشیں ملی ہیں۔ ہلاک ہونے والے دووں افراد کا تعلق ضلع کرک سے بتایا جاتا ہے۔ لاشوں کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مقتولین امریکیوں کے لیے علاقے میں جاسوسی کرتے تھے اس لیے ان کو ہلاک کیاگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مقتولین کو کئی گولیاں ماری گئی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق خط میں ہلاک شدگان کے نام اسفندیار اور رحمٰن خٹک لکھا گیا ہے جو دونوں سگے بھائی بتائے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق دونوں بھائی کچھ عرصے سے میرانشاہ کے گاؤں ماچس میں حجام کا کام کرتے تھے اور انہیں ایک ہفتہ قبل پانچ مسلح نقاب پوشوں نے ان کی دوکان سے اغوا کر لیا تھا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وزیرستان میں جاسوسی کے الزام کے تحت قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے اس قسم کے واقعات میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں سرکاری اور مبینہ طور پر حکومت کے حمایت یافتہ دو سو سے زائد قبائلیوں اور صحافیوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان دو سال پہلے ایک امن معاہدے میں طالبان نے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس کے علاوہ ضلع ہنگو میں گیارہ محرم کی شام سے فرقہ وارانہ جھڑپوں کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا لیکن پیر کی صبح سے پولیس کے مطابق علاقے میں خاموشی ہے۔ البتہ پولیس کے مطابق شہر میں پولیس، ایف سی اور فضاء میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کے گشت جاری ہیں۔ | اسی بارے میں جاسوسی کے الزام میں تین قتل05 January, 2009 | پاکستان مخلوط تعلیم پر پابندی: طالبان04 January, 2009 | پاکستان 2009: دو دنوں میں دوسرا ڈرون حملہ02 January, 2009 | پاکستان سال نو کا پہلا امریکی ڈرون حملہ01 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||