حکومت کو طالبان کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ان کے اڈیالہ جیل میں قید ساتھیوں کے ساتھ ’برا سلوک‘ بند نہ کیا تو وہ ان کے پاس یرغمال ’اعلٰی لوگوں‘ کو قتل کرنا شروع کر دیں گے۔ تنظیم کے مرکزی رہنما اور بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھی ذوالفقار محسود نے بی بی سی سے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے یہ دھمکی دی۔ تاہم انہوں نے نہ تو اڈیالہ جیل میں قید ساتھیوں اور نہ ان کے بدلے قتل کیے جانے والے یرغمالیوں کی شناخت ظاہر کی۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ اڈیالہ جیل میں قید نو افراد نے، جنہیں دہشت گردی کے مختلف کیسوں میں گرفتار کیا گیا ہے، جمعرات کی رات سے جیل انتظامیہ کی مبینہ بدسلوکی کے خلاف بطور احتجاج کھانا کھانا بند کر دیا تھا۔ ان میں سے پانچ قیدی پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں جیل میں ہیں۔ ہڑتال کرنے والوں میں بےنظیرکے قتل میں مبینہ طور پر ملوث اعتزاز شاہ، رفاقت حسین، شیر زمان، حسنین گل اور عبدالرشید شامل ہیں جبکہ باقی پانچ اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل حملے میں مبینہ طور پر ملوث ڈاکٹر عثمان، محمد حمید افضل، تحسین اللہ جان اور رانا الیاس شامل ہیں۔ ذوالفقار محسود نے بتایا کہ جیل انتظامیہ کے مبینہ ناروا سلوک کے خلاف ان کے ساتھیوں نے بھول ہڑتال شروع کر دی تھی تاہم انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اس پر جیل اہلکاروں نے ان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی میں اضافہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی لاشیں ڈبوں میں بند بھیجی جائیں گی۔ اڈیال جیل کے نائب منتظم ملک فیروز نے بھوک ہڑتال کی خبروں کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرئٹ ہوٹل دھماکے کیس میں ملزمان نے ان کے پاؤں کی بیڑیاں بیرکوں کے اندر نہ ہٹانے پر بھوک ہڑتال کی دھمکی دی تھی۔ تاہم بےنظیر مقدمے میں ملوث افراد نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہائی اہم دہشت گردی کے واقعے میں ملوث ہونے کی وجہ سے وہ ان ملزمان کے ساتھ نرمی نہیں برت سکتے۔ ان افراد کے مقدمات آج کل مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ تاہم تحریک طالبان نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہوں نے یہ دھمکی میریٹ یا بےنظیر مقدمے میں ملوث افراد سے مبینہ بدسلوکی کے جواب میں دی ہے۔ تاہم تحریک طالبان کی دھمکی سے اس کے ان افراد سے روابط کی تصدیق ہوتی ہے۔ تحریک طالبان نے میریٹ ہوٹل اور بےنظیر بھٹو کے قتل سے لاتعلقی کا اعلان کر رکھا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ مشتبہ شدت پسندوں کی جانب سے اتوار کو جنوبی وزیرستان میں اعلٰی حکومتی اہلکار کا اغوا اس واقع سے جڑا ہے یا نہیں اور تحریک کی دھمکی سے مراد کون سے اعلٰی اہلکار تھے۔ | اسی بارے میں سوات، ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نیا سلسلہ06 January, 2009 | پاکستان سوات کئی ہفتوں بعد پرسکون08 January, 2009 | پاکستان سوات طالبہ کی ڈائری: سکول جانا ہے۔۔۔۔09 January, 2009 | پاکستان طالبان کی ’شرعی عدالتیں‘ دوبارہ09 January, 2009 | صفحۂ اول مہمندایجنسی میں جھڑپ آٹھ ہلاک11 January, 2009 | پاکستان باجوڑ:چار لوگوں کے کان کاٹ دیے گئے11 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||