طالبہ کی ڈائری: سکول جانا ہے۔۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں گزشتہ برس اکتوبر میں شروع ہونے والی فوجی کاروائی جاری ہے۔ اگر ایک طرف سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کی جھڑپوں میں درجنوں عام شہریوں کے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف مسلح طالبان نے ایک سو تیس سے زائد سکولوں کو تباہ کرنے کی بھی ذمہ داری قبول کرلی ہے جن میں سے زیادہ تر لڑکیوں کے ہیں۔ اب طالبان نے پندرہ جنوری کے بعد لڑکیوں کے سکول جانے پر بھی پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس صورتحال میں طالبات پر کیا گزر رہی ہے، بی بی سی ارود ڈاٹ کام ساتویں جماعت کی ایک متاثرہ طالبہ کی کہانی ایک ڈائری کی صورت میں شائع کرے گا۔ سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر وہ ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے اپنی ڈائری لکھیں گی۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی: سنیچر، تین جنوری: میں ڈر گئی اور رفتار بڑھا دی آج ہمارے کلاس میں ستائیس میں سے صرف گیارہ لڑکیاں حاضر تھیں۔ یہ تعداد اس لیے گھٹ گئی ہے کہ لوگ طالبان کے اعلان کے بعد ڈرگئے ہیں۔ میری تین سہیلیاں سکول چھوڑ کر اپنے خاندان والوں کے ساتھ پشاور، لاہور اور راولپنڈی جاچکی ہیں۔ ایک بجکر چالیس منٹ پر سکول کی چھٹی ہوئی۔گھر جاتے ہوئے راستے میں مجھے ایک شخص کی آواز سنائی دی جو کہہ رہا تھا: ’میں آپ کو نہیں چھوڑونگا۔‘ میں ڈرگئی اور اپنی رفتار بڑھادی۔جب تھوڑا آگے گئی تو پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ کسی اور کو فون پر دھمکیاں دے رہا تھا، میں یہ سمجھ بیھٹی کہ وہ شاید مجھے ہی کہہ رہا ہے۔ اتوار، چار جنوری: کل سکول جانا ہے، میرا دل دھڑک رہا ہے ہم رات کو کھانے کے بعد سیر کے لیے باہر بھی جایا کرتے تھے۔اب حالات کی وجہ سے لوگ شام کو ہی گھر لوٹ آتے ہیں۔ میں نے آج گھر کا کام کاج کیا، ہوم ورک کیا اور تھوڑی دیر کے لیے چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیلی۔ کل صبح پھر سکول جانا ہے اور میرا دل ابھی سے دھڑک رہا ہے۔ پیر، پانچ جنوری: زرق برق لباس پہن کر نہ آئیں۔۔۔ اس دوران میری ایک سہیلی ڈرتی ہوئی میرے پاس آئی اور بار بار قرآن کا واسطہ دیکر پوچھنے لگی کہ ’خدا کے لیے سچ سچ بتاؤ، ہمارے سکول کو طالبان سے خطرہ تو نہیں؟‘ میں سکول خرچ یونیفارم کی جیب میں رکھتی تھی لیکن آج جب بھی میں بھولے سے اپنے جیب میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتی تو ہاتھ پھسل جاتا کیونکہ میرےگھر کے کپڑوں میں جیب سرے ہی نہیں۔ آج ہمیں اسمبلی میں پھر کہا گیا کہ آئندہ سے زرق برق لباس پہن کر نہ آئیں کیونکہ اس پر بھی طالبان خفا ہوسکتے ہیں۔ سکول کی چھٹی کے بعد گھر آئی اور کھانا کھانے کے بعد ٹیوشن پڑھا۔ شام کو میں نے ٹیلی ویژن آن کیا تو اس میں بتایا گیا کہ شکردہ سے پندرہ روز کے بعد کرفیو اٹھالیا گیا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ ہمارے انگریزی کے استاد کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور وہ شاید کل پندرہ دن کے بعد پڑھانے کے لیے سکول آجـائیں۔ |
اسی بارے میں سوات میں بائیس افراد ہلاک06 December, 2008 | پاکستان طالبان مخالف لشکر سربراہ ہلاک14 December, 2008 | پاکستان ’اختلاف نہیں انتقامی کارروائی‘17 December, 2008 | پاکستان چیک پوسٹ کے پاس خود کش حملہ01 December, 2008 | پاکستان مقامی طالبان نے لاش چوک میں لٹکا دی16 December, 2008 | پاکستان سوات میں جھڑپیں، لاشیں برامد22 December, 2008 | پاکستان ’نجی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش‘ 25 December, 2008 | پاکستان لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی25 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||