BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2008, 18:43 GMT 23:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں جھڑپیں، لاشیں برامد

سوات میں شدت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مختلف واقعات میں پندرہ عسکریت پسندوں اور دو فوجی اہلکاروں سمیت 28 اٹھائیس افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین بھکارنیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

سوات میڈیا سینٹر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیر کو تحصیل مٹہ کے علاقے شکر درہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے جس میں پندرہ عسکریت پسند مارے گئے۔ اس کارروائی میں دو فوجی اہلکار بھی ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں سوات کے مقامی طالبان سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

دریں اثناء شکردرہ اور خوازہ خیلہ کے علاقوں میں بھی مارٹر گولے مکانات پر گرنے سے چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سارا دن شکر درہ کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی جس سے دو مقامات پر کچھ مارٹر گولے مکانات پر لگنے سے چھ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔

ادھر سوات کے مختلف علاقوں سے مزید چھ افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گولیاں مارکر قتل کیا گیا ہے۔

سوات کے ایک اعلی پولیس اہلکار نے تصدیق کی کہ تین لاشیں کانجو اور ایک لاش صدرمقام مینگورہ کی حدود سے سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ملی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ شام کے وقت مینگورہ شہر میں نامعلوم مسلح افراد نے دو خواتین بھکارن یعنی ماں بیٹی کو گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ دونوں خواتین شہر میں بھیک مانگنے کا کام کرتی تھیں۔ ابھی تک کسی تنظیم نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سوات میں گزشتہ چند ہفتوں سے خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ چند دن پہلے بھی مینگورہ شہر میں نامعلوم مسلح افراد نے دو مختلف واقعات میں چھ خواتین کو گولیاں مار قتل کیا تھا۔

دو دن پہلے پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاسں میں سوات میں جاری فوجی آپریشن پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔ کابینہ نے فوج سے استدعا کی تھی کہ اس اپریشن کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ اس میں بے گناہ شہری نشانہ نہ بنیں اور لوگوں کا فوج پر اعتماد بحال ہوسکے۔

اسی بارے میں
’فوج آپریشن کو مؤثر بنائے‘
20 December, 2008 | پاکستان
سوات اور بنوں میں ہلاکتیں
21 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد