’فوج آپریشن کو مؤثر بنائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد حکومت نے سوات میں جاری آپریشن کے دوران بے گناہ لوگوں کی ہلاکت پر فوج سے اس آپریشن کو مؤثر بنانے کےلیے رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے مالی وسائل کی غرض سے اغواء کی وارداتوں کے خاتمے کےلیے پولیس کو فری ہینڈ دیا جائے گا۔ پشاور میں سنیچر کو صوبائی کابینہ کا امن وامان کے حوالے سے سات گھنٹے کا طویل اجلاس وزیراعلی سرحد امیر حیدر خان ہوتی کی قیادت میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء اور اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات اور سرحد حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین نے کہا کہ سوات میں جاری آپریشن کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہورہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی رائے بھی یہ کہ ان فوجی کارروائیوں میں زیادہ تر عام شہری ہلاک ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے فوج سے استدعا کی ہے کہ اس آپریشن کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ اس پر لوگوں کا اعتماد بحال ہوسکے۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ صوبائی کابینہ نے صوبہ میں عسکریت پسندوں کی جانب سے مالی وسائل کی غرض سے اغواء کی وارداتوں کا سختی سے نوٹس لیا اور اس سلسلے میں پولیس کو فری ہینڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے اس سلسلے میں پولیس کو جدید آلات کی خریداری کےلیے فوری طور پر سات کروڑ روپے دینے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں اتحادی افواج کے لیے سامان رسد لےجانے والی گاڑیوں پر حملوں کو روکنے کےلیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ بیک وقت صوبے میں دو سو کنٹینرز ذخیرہ کیے جائیں گے اور اس سے زیادہ تعداد میں گاڑیاں اڈوں میں کھڑی نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دو سو گاڑیاں کلئیر ہونے کے بعد مزید دو سو گاڑیاں ذخیرہ کی جائیگی۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے انتظامات کےلیے صوبہ کے چیف سیکرٹری، اور آئی جی پولیس کورکمانڈر پشاور سے ملاقات کرکے انہیں اپنی ضروریات سے آگاہ کرینگے جبکہ پشاور میں محرم الحرام کے دوران تین ہزار اضافی پولیس تعینات کی جائے گی۔ دہشت گردی سے متعلق جنگ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ’اگرچہ یہ جنگ ہماری نہیں تھی لیکن اب ہم اس کے گرفت میں آچکے ہیں اور ہم کو یہ جنگ اب ہر حالت میں جیتنی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم مکمل طورپر حالت جنگ میں ہیں، مورچے میں بیٹھے ہوئے ہیں ، یہ جنگ صرف ہمارے صوبے کی نہیں بلکہ اب تو یہ پورے ملک اور پوری دنیا کی بقا کی جنگ ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پولیس کی تعداد کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اضلاع سے پہلے مرحلہ میں پندرہ سو جبکہ دوسرے مرحلہ میں ایک ہزار فورس کو تربیت دی جائیگی جس کو ایلیٹ فورس کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ:’بارہ شدت پسند ہلاک ‘ 09 November, 2008 | پاکستان مینگورہ:ہلاک صحافی سپردِ خاک09 November, 2008 | پاکستان سوات: چھ شہری اور انسپکٹر ہلاک01 November, 2008 | پاکستان سوات لشکر طالبان جھڑپیں، تیرہ ہلاک26 October, 2008 | پاکستان سوات: پولیس افسر کا سر قلم25 October, 2008 | پاکستان خود کش نہیں فدائی حملے: طالبان15 October, 2008 | پاکستان ہنگو: دس سکیورٹی اہلکار رہا06 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||