BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 October, 2008, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: پولیس افسر کا سر قلم

سوات میں تعینات پولیس اہلکار
سوات میں تعینات پولیس اہلکار
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک سکیورٹی اہلکار سمیت دو مزید افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گلہ کاٹ کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ تین دن میں یہ تیسرا ایسا واقعہ ہے۔

سوات پولیس کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح تحصیل کبل کے علاقے دیولئی بازار سے ایک سکیورٹی اہلکار کی لاش ملی ہے جس کا سر بدن سے جدا تھا۔ مذکورہ اہلکار کا تعلق فرنٹیئر کانسٹیبلڑی سے بتایا جاتا ہے۔

پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والا ایف سی اہلکار تین دن پہلے سرسینڑی کے مقام پر سکیورٹی اہلکاروں اور مسلح طالبان کے مابین ہونے والے جھڑپوں کے بعد لاپتہ ہوگیا تھا۔

ادھر سوات کے صدر مقام مینگورہ کے علاقے سنگوٹہ سے بھی ایک عام شہری کی لاش ملی ہے جس کا سر قلم کیا گیا ہے۔ تھانہ مینگورہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص تحصیل مٹہ سے تعلق رکھتا ہے اور مینگورہ میں ایک شادی میں شرکت کےلیے آیا تھا۔

 یہ پہلی دفعہ ہے کہ سوات میں طالبان نے سکیورٹی اہلکاروں کے سر قلم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے سوات میں دو مرتبہ سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال چکی ہے اور دونوں دفعہ عسکریت پسندوں نے اہلکاروں کو معاف کرکے اس بات پر آزاد کیا تھا کہ وہ آئندہ سرکاری نوکری نہیں کرینگے۔
مقامی ذرائع نے اس واقعہ کی وجہ خاندانی دشمنی بتائی ہے۔ سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے ایف سی اہلکار کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرلی ہے، اب جو بھی سکیورٹی اہلکار ان کے ہاتھ آئے گا وہ ان کو گولی سے نہیں بلکہ اس کا سر قلم کرینگے۔

ترجمان نے اس بات کو دہرایا کہ وہ پہلے بھی میڈیا کے ذریعے سے سکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کو متنبہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنے بیٹوں یا مردوں کو سوات مت بھیجیں ورنہ ان کا یہ حال ہوگا۔

یہ پہلی دفعہ ہے کہ سوات میں طالبان نے سکیورٹی اہلکاروں کے سر قلم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے سوات میں دو مرتبہ سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال چکی ہے اور دونوں دفعہ عسکریت پسندوں نے اہلکاروں کو معاف کرکے اس بات پر آزاد کیا تھا کہ وہ آئندہ سرکاری نوکری نہیں کرینگے۔

سوات میں گزشتہ سال اکتوبر میں فوجی آپریشن سے چند دن قبل پہلی مرتبہ تیرہ پولیس اہکاروں کو سرعام گلہ کاٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔ اس واقعہ پر بعد میں طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے ذریعے باقاعدہ طورپر معافی مانگ لی تھی۔

اسی بارے میں
سوات میں’ شہری‘ ہلاکتیں
20 October, 2008 | پاکستان
سوات میں آپریشن کا ایک سال
14 October, 2008 | پاکستان
سوات خودکش حملہ، تین ہلاک
16 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد