BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 October, 2008, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں’ شہری‘ ہلاکتیں

سوات میں فوجی آپریشن جاری ہے
سوات اور باجوڑ میں جاری کاروائیوں میں اب تک بڑی تعداد میں عام شہری مارے جاچکے ہیں
پاکستان میں صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام نے دعوی کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر حملے میں سات مبینہ عسکریت پسند ہلاک جبکہ دس زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام عام شہری بتائے جاتے ہیں۔

سوات میڈیا سینٹر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی صبح مشتبہ عسکریت پسندوں نے تحصیل کبل کے علاقے شاہ ڈھیری میں قائم سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کردیا۔ تاہم سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس میں سات مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے۔ بیان کے مطابق کاروائی میں دس شدت پسند زخمی بھی ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

تاہم دوسری طرف مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد تمام عام لوگ ہیں۔ شاہ ڈھیری کے ایک باشندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ صبح کے وقت بعض نامعلوم مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی۔

انہوں نے بتایا کہ فورسز نے شاہ ڈھیری گاؤں پر بھاری توپ خانے سے شدید شیلنگ کی جس میں دو مارٹر گولے گھروں پر گرنے سے سات افراد ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور بچہ شامل ہے۔

عینی شاہد کے مطابق یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ سکیورٹی فورسز پر پہلے کس نے حملہ کیا۔البتہ اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام عام شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں بیس کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سوات کے مقامی صحافیوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ پندرہ کے قریب عام شہریوں کو ہسپتال لایا گیا ہے۔

گزشتہ روز بھی تحصیل مٹہ کے علاقے برتھانہ میں ایک فضائی حملے میں بیس کے قریب عام شہری مارے گئے تھے۔ تاہم سوات میڈیا سینٹر کے ایک بیان کے مطابق کل کے حملے میں پچیس عسکریت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ سوات اور باجوڑ میں جاری کاروائیوں میں اب تک بڑی تعداد میں عام شہری مارے جاچکے ہیں۔ عام طورپر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں عام شہری مرتے ہیں تو انہیں طالبان کا نام دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
چار شدت پسند، دو شہری ہلاک
14 October, 2008 | پاکستان
سوات میں آپریشن کا ایک سال
14 October, 2008 | پاکستان
سوات : تھانے پر خود کش حملہ
16 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد