خود کش نہیں فدائی حملے: طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقامی طالبان نے متحدہ علماء کونسل کی طرف سے خودکش حملوں کو حرام قراردینے کے فتوے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خودکش نہیں بلکہ ’فدائی حملے‘ کر رہے ہیں جن کی مقصد امریکہ اور ان کے اتحادیوں کو نشانہ بنانا ہے۔ سوات میں طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’خودکش حملوں کو تو ہم بھی حرام سمجھتے ہیں لیکن خودکش اور فدائی حملے میں فرق ہونا چاہیے، جو لوگ امریکہ کے کہنے پر اپنے لوگوں پر بم برسا رہے ہیں اور ان کو اپنے گھروں اور علاقے سے بدخل کردیا گیا ہے۔ ایسے لوگوں کے خلاف حملے جائز ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ مفتی صاحب کو فتوی جاری کرنے سے پہلے سوات اور باجوڑ کا چکر لگانا چاہیے تھا تاکہ وہاں وہ تحقیق کرتے اور خود اپنے آنکھوں سے دیکھتے کہ وہاں پاکستانی سکیورٹی فورسز امریکہ کے کہنے پر اپنے لوگوں کے خلاف کس قسم کی کاروائیاں کررہی ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز متحدہ علماء کونسل نے اپنے ایک متفقہ اعلامیہ میں پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام اور ناجائز قرار دیا ہے۔ یہ مشترکہ اعلامیہ متحدہ علماء کونسل کے سربراہ مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا تھا۔ دوسری طرف صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ تشدد کے دو مختلف واقعات میں مسلح افراد نے ایک پولیس اہلکار اور لیڈی کونسلر سمیت چار افراد کو گولیاں مارکر قتل کردیا ہے۔ سوات پولیس کے مطابق پہلا واقعہ منگل کی رات شورش زدہ تحصیل کبل میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے لیڈی کونسلر نشاء ہوا کے گھر میں گھس کر انہیں شوہر سمیت گولیاں مار ہلاک کردیا۔ تاحال اس قتل کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی اورنہ ہی کسی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سوات پولیس کے ایک اہلکار عبد المالک نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات کانجو کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے تھانہ کبل کے ایک اہلکار کو بھائی سمیت فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بھائی موٹر سائیکل پر گھر جارہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھادھند فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار محبوب علی موقع ہی ہلاک ہوگئے جبکہ انکے بھائی بعد میں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ سوات کے مقامی طالبان نے پولیس اہلکار پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ سوات میں جولائی کے ماہ میں فوجی کاروائیوں میں تیزی آنے کے بعد سیاسی رہنماؤں ، منتخب نمائندوں اور سرکاری اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سوات کے طالبان ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں خود کش حملے حرام: علماء کا فتویٰ14 October, 2008 | پاکستان اورکزئی جرگہ حملہ، ہلاکتیں اکیاون11 October, 2008 | پاکستان ’مارو جتنے شدت پسند مار سکتے ہو‘13 October, 2008 | پاکستان سوات، باجوڑ، ’تیرہ شدت پسند ہلاک‘13 October, 2008 | پاکستان پاکستانی مہاجرین کے لیے نئے کیمپ12 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||