BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 October, 2008, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خود کش حملے حرام: علماء کا فتویٰ

حافظ سعید
حافظ سعید پہلے ہی پاکستان میں خود کش حملوں کو فتنہ قرار دے چکے ہیں
متحدہ علماء کونسل نے اپنے ایک متفقہ اعلامیہ میں پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام اور ناجائز قرار دیا ہے۔

یہ مشترکہ اعلامیہ متحدہ علماء کونسل کے سربراہ مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا۔

اس سے پہلے متحدہ علماء کونسل کا ایک اجلاس لاہور کے جامعہ نعیمیہ میں ہوا۔اجلاس میں اہلسنت اہلحدیث اور اہل تشیع سمیت تقریبا تمام مسالک کے علماء نے شرکت کی۔

متحدہ علماء کونسل کے اجلاس میں کالعدم لشکر طیبہ کے بانی اور جماعتہ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے بھی شرکت کی۔

حافظ سعید اس سے پہلے ہی پاکستان میں خود کش حملوں کو فتنہ قرار دے چکے ہیں۔

کونسل کے سربراہ مفتی سرفراز نعیمی نے کہا کہ علماء کا متفقہ فتوی ہے کہ پاکستان میں خود کش حملے ناجائز اور حرام ہیں، لیکن یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت درپردہ خود کش حملوں کی پشت پناہی کررہی ہے تاکہ محبان وطن اکٹھے نہ ہوسکیں اور حکومت کے خلاف تحریک نہ چلاسکیں۔

اکیس نکاتی مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ پاکستانی علاقوں میں بمباری اور اندھا دھند فائرنگ اور فوجی کارروائی بند کی جائے اور علماء کے ایک نمائندہ وفد کو باجوڑ اور سوات کا دورہ کرایا جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جاسکیں۔

ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے کہا کہ کہ سابق صدر مشرف اور موجودہ حکومت کے امریکہ سے ہونے والے تمام معاہدے پاکستانی عوام کے علم میں لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں آئندہ جمعہ کو قبائلی علاقوں میں ہونے والی کارروائی کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے۔

متحدہ علماء کونسل نے کہا ہے کہ پارلیمان صرف بریفنگ ہی نہ لے بلکہ ملکی مفاد میں پالیسی بھی بنائے۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے کہا کہ ایک آل پارٹیز کانفرنس بلا کر اس میں یہ بریفنگ دی جائے، اس اے پی سی میں ان جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے جو پارلیمان کا حصہ نہیں ہیں۔

اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں کالعدم سپاہ صحابہ کےمرکزی رہنما مجیب الرحمان انقلابی، شیعہ عالم دین سید نیازحسین نقوی، نصرت شاہانی، تنظیم اسلامی کے عاکف سعید، اہلحدیث کے علامہ زبیر احمد زہیر،جماعت اسلامی کے مولانا عبدالمالک، فرید پراچہ اور جمعیت علمائے اسلام کے محب النبی اور جے یو آئی (س) کے خلیل الرحمان حقانی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
سوات، کار بم حملے میں نو ہلاک
22 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد