BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 November, 2008, 10:52 GMT 15:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مینگورہ:ہلاک صحافی سپردِ خاک

 صحافی قاری محمد شعیب
حکام کا دعوٰی ہے کہ ان کی ہلاکت ایک ’غلطی‘ کا نتیجہ تھی
صوبہ سرحد کے ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے صحافی کو ان کے آبائی گاؤں تحصیل کالام کے علاقے وشوں میں سپردخاک کردیاگیا ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافی قاری محمد شعیب کو سنیچر کی رات نو بجےگرین چوک کے قریب سکیورٹی فورسز نے اس قت فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا جب وہ ہسپتال سے واپس گھر لوٹ رہے تھے۔صحافیوں کے مطابق ہسپتال میں ان کی بیٹی کا آپریشن ہوا تھا۔

سوات پریس کلب کے جنرل سیکٹری فضل رحیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سکیورٹی فورسز نے جان بوجھ کرصحافی کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ رات نو بجے کے قریب پیش آیا ہے اور علاقے میں کسی قسم کا کرفیوں نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے دوران دوسری گاڑیاں بھی اسی راستے سےگزر رہی تھیں۔

دوسری طرف حکام کا دعوٰی ہے کہ یہ ہلاکت غلطی سے ہوئی ہے صحافی کیساتھ کسی کی دشمنی نہیں تھی حکام کے مطابق علاقے میں سکیورٹی کی نازک صورتحال کی وجہ سے سکیورٹی اہلکار رات کو آنے جانے والوں پرگہری نظر رکھتے ہیں اور اس قسم کے واقعہ کا خطرہ رہتا ہے۔

سوات پریس کے جوائنٹ سیکٹری شرین ذادہ نے بتایا کہ سوات میں صحافی احتجاج کر رہے ہیں۔ قاری محمد شیعب کی ہلاکت پر صحافیوں کو زبردست دھچکا پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد صحافت پر قدغن برداشت نہیں کریں گے۔

قاری شیعب کے وارثوں میں تین بیٹیاں ایک بیٹا اور دو بیویاں ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق وہ اپنے اہل خانہ کے واحد ذریعہ معاش تھے۔

قاری محمد شعیب مقامی اخبار روز نامہ آزادی اور پی پی اے کے ساتھ منسلک تھے اور سوات کے صحافی اس واقعہ پر انتہائی مشتعل ہیں۔سوات میں جب سے فوجی کارروائی شروع ہوئی ہے اس کے بعد سے یہ دوسرا صحافی ہے جو اس طرح کے تشدد میں ہلاک ہوا ہے۔اس سے پہلے ایک صحافی ایک پولیس افسر کی نمازہ جنازہ پر خودکش حملے کے دوران ہلاک ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں
ہنگو: دس سکیورٹی اہلکار رہا
06 November, 2008 | پاکستان
سوات: پولیس افسر کا سر قلم
25 October, 2008 | پاکستان
سوات میں پچیس جنگجو ہلاک
19 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد