BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 October, 2008, 07:23 GMT 12:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں پچیس جنگجو ہلاک

سوات میں فوجی آپریشن جاری ہے
سوات میں فوجی آپریشن جاری ہے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر سکیورٹی فورسز کے فضائی حملوں میں پچیس جنگجو ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان کرنل ندیم نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ اتوار کی صبح توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے تحصیل مٹہ کے علاقے برتھانہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں مقامی طالبان کے ایک اسلحہ مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے جو تباہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے ہلاکتوں کی تعداد پچیس بتائی ہے۔ اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد صرف دس بتائی گئی تھی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بمباری سے ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام لوگوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برتھانہ گاؤں میں درجنوں گھر تباہ ہوگئے ہیں جن سے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔ بعض ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ بتائی ہے جن میں عام شہریوں کے علاوہ طالبان جنگجو بھی شامل ہیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کاروائی میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے ایک اہم کمانڈر عالمگیر کے حجرے کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ایک مسجد کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم طالبان ذرائع نے کمانڈر عالمگیر کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔

برتھانہ گاؤں کے ایک باشندے نثار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے بعد آس پاس کے علاقوں میں مساجد سے اعلانات کیے گئے جن میں لوگوں سے گاؤں پہنچ کر ملبے سے لاشیں نکالنے میں مدد کی اپیل کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے برتھانہ گاؤں جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا ہے اور علاقے میں غیر اعلانیہ طورپر کرفیو نافذ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

سوات میں مقامی طالبان ترجمان حاجی مسلم خان نے الزام لگایا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے گاؤں میں عام آبادی کو نشانہ بنایا ہے جس میں ان کے بقول تمام عام شہری مارے گئے ہیں۔

بی بی سی سےگفتگو میں طالبان ترجمان نے کہا کہ بمباری کے وقت چند طالبان ’مجاہدین‘ مسجد میں نوافل ادا کر رہے تھے جن میں دو زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انڈیا پاکستان جنگ میں بھی اتنی تباہی نہیں ہوتی جتنی سکیورٹی فورسز نے آج برتھانہ گاؤں میں کی ہے۔

ادھر سوات کے ایک دوسرے علاقے کبل سرسینڑی میں بھی سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جس میں فریقین نے ایک دوسرے کو بھاری نقصانات پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔ ان جھڑپوں میں ایک فوجی اور عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

اسی بارے میں
چار شدت پسند، دو شہری ہلاک
14 October, 2008 | پاکستان
سوات میں آپریشن کا ایک سال
14 October, 2008 | پاکستان
سوات : تھانے پر خود کش حملہ
16 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد