BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 October, 2008, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات لشکر طالبان جھڑپیں، تیرہ ہلاک

قبائلی لشکر کو پاکستان فوج کی حمایت حاصل ہے
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں اطلاعات کے مطابق طالبان اور مقامی لوگوں پر مشتمل مسلح لشکر کے مابین جھڑپوں میں تین عسکریت پسندوں سمیت کم سے کم تیرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں لشکر کے رہنما بھی شامل ہیں جبکہ لڑائی میں مولانا فضل اللہ کا ایک اہم کمانڈر بھی مارا گیا ہے۔

سوات سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح تحصیل مٹہ میں حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب آغل برتھانہ کے علاقے میں طالبان نے سڑک کے کنارے ایک چیک پوسٹ قائم کر کے گاؤں کے لوگوں کو گاڑیوں سے اتارنا شروع کیا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ عسکریت پسند لشکر میں حصہ لینے والے افراد کو زبردستی گاڑیوں سے اتار رہے تھے کہ اس دوران وہاں کئی دیہات کے مسلح افراد جمع ہوگئے اور طالبان پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح لشکر اور طالبان کے مابین سارا دن شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں تین عسکریت پسندوں سمیت کم سے کم تیرہ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں طالبان کے اہم کمانڈر مولانا شمشیر اور لشکر کے اہم رہنما بہرمند خان، افرین اور ایوب بھی شامل ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے افراد کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔

ادھر سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے لشکر کے بارہ افراد کو ہلاک جبکہ ستر کے قریب کو یرغمال بنائے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یرغمال بنائے جانے والوں میں پیر سمیع اللہ کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

ترجمان نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں مولانا شمشیر سمیت تین طالبان جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یرغمال بنائے جانے والے لشکر کے افراد کے بارے میں طالبان شوریٰ فیصلہ کریگی۔

واضح رہے کہ دو دن پہلے تحصیل مٹہ میں درجنوں دیہاتوں کے افراد نے ایک جرگے میں طالبان کے خلاف مسلح لشکر تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس جرگہ میں دیہاتوں کے عمائدین اور مشران نے شرکت کی تھی۔ جرگہ نے طالبان سے علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں
دِیر: شریعت کے حق میں دھرنا
10 October, 2008 | پاکستان
سوات : تھانے پر خود کش حملہ
16 October, 2008 | پاکستان
سوات میں’ شہری‘ ہلاکتیں
20 October, 2008 | پاکستان
سوات: پولیس افسر کا سر قلم
25 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد