BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 December, 2008, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نجی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش‘

ضلع سوات
نجی تعلیمی اداروں کے خلاف طالبان نے تدریجی طور پر کاروائیوں کا آغاز کیا ہے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان نےلڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی کا جو تازہ اعلان کیا ہے اس سے یہ معنی اخذ کیا جارے ہیں کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کے بعد اب وہ نجی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری شورش کے دوران طالبان نے جن ایک سو تیس کے قریب سرکاری تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا ہے ان میں اسی کے قریب لڑکیوں کے سکول ہیں جنکی وجہ سے بہتر ہزار کے قریب طالبات علم کے حصول سے محروم رہ گئی ہیں۔

تاہم اس دوران طالبان نے ایک آدھ کے سوا نجی تعلیمی اداروں کو کبھی بھی نشانہ نہیں بنایا ہے مگر سرکاری تعلیمی نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے بعد انہوں نے اب نجی سکولوں کو بھی بند کرنے کی حکمت عملی وضع کرلی ہے۔

پرائیویٹ منجیمنٹ ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سوات میں خوشحال پبلک سکول اینڈ کالج کے سربراہ ضیاء الدین کے مطابق اس وقت ضلع سوات میں تقریباً پانچ سو نجی تعلیمی ادارے ہیں جن میں صرف پرائمری سطح پر ہی مخلوط تعلیم رائج ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اندازے کے مطابق طالبان کی حالیہ پابندی کے نافذالعمل ہونے کے بعد پچاس ہزار کے قریب طالبات علم کے حصول سے محروم رہ سکتی ہیں۔

نجی تعلیمی اداروں کے خلاف طالبان نے تدریجی طور پر کاروائیوں کا آغاز کیا۔ ابتداء میں انہوں نے اعلان کیا کہ نجی تعلیمی ادارے پینٹ شرٹ کو بطور یونیفارم استعمال نہ کریں جس پر عملدرآمد کراتے ہوئے سفید شلوار قمیض کو یونیفارم کے طور استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کچھ عرصے بعد طالبان نے ایک اور اعلان کیا کہ بچیاں اور اُستانیاں برقع پہن کر سکول جائیں ان کے اس حکم پر بھی عملدرآمد کرایا گیا۔

لیکن اس دفعہ طالبان نے سخت اقدام کرتے ہوئے سرکاری اور نجی تعلیی اداروں میں لڑکیوں کے تعلیم پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ضیاءالدین کا کہنا ہے کہ سرکاری تعلیم ادارے چونکہ زیادہ تر یا تو تباہ یا بند ہوچکے ہیں لہذا اس اعلان کا خمیازہ نجی تعلیمی اداروں کو ہی بھگتنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اعلان کے بعد بہت سے والدین کا فون آنا شروع ہوگئے ہیں کہ انکی بچیاں رو رہی ہیں کہ انہیں تعلیم جاری رکھنے سے دور رکھا جارہا ہے۔ان کے مطابق’بچیوں کے کچھ خواب ہوتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ ڈاکٹر، ٹیچر یا کسی اور شعبے میں خدمات انجام دیں گی لیکن اب انہیں محسوس ہورہا ہے کہ ان سے انکے خواب چھینے جارہے ہیں۔‘

ضیاءالدین کا کہنا ہے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کی نمائندگی پر ایف ایم چینل پر اعلان کرنے والے طالبان رہنماء مولانا شاہ دوران کو ایک خط لکھنے جارہے ہیں جس میں وہ ایسے نکات اٹھائیں گے کہ اس فیصلے پر عمل کرنے کےکونسےمتوقع نقصانات ہوسکتے ہیں۔

ان کے بقول پہلی بات تو یہ ہے کہ سوات سے پہلے ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کرچکی ہے اور لڑکیوں کے سکول کی تعلیم پر پابندی کے بعد اپنی بچیوں کے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے غرض سے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد دوسرے شہروں کی طرف ہجرت کرسکتی ہے۔

’اس خط میں ان سے یہی سوال کرونگا کہ جب پہلے ہی زیادہ تر لوگ علاقہ چھوڑ چکے ہیں اور مزید کے چلے جانے سے کل سوات کا کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آبھی جاتا ہے تو کیا وہ اپنی حکمرانی قبرستانوں پر کریں گے۔‘

ان کے مطابق دوسری بات یہ ہے کہ طالبان کا یہ فیصلہ بہت ہی غیر مقبول ہوگا کیونکہ مقامی آبادی کم سے کم تعلیم پر پابندی کے کسی فیصلے کے حق میں نہیں ہیں۔اس فیصلے سے طالبان کے ساکھ پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔

ضیاءالدین کا مزید کہنا ہے ان تعلیمی اداروں میں درجنوں خواتین اساتذہ پڑھا رہی ہیں اور بند ہونے کی صورت میں وہ بے روز گار ہوجائیں گی جسکا براہ راست اثر لوگوں کی مالی حالت پر ہوگا۔

انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ممکن ہے کہ سوات کے نجی تعلیمی ادارے کی ایسوسی ایشن یہ اعلان کردے کہ اگر لڑکیوں کی تعلیم پر عملاً کوئی پابندی لگتی ہے تو لڑکوں کے سکولوں کو بھی مکمل طور پر بند کردیا جاسکتاہے۔

اسی بارے میں
پشاور پولیس اور امن و امان
23 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد