رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | اب نجی تعلیمی اداروں پر بھی حملے شروع ہوگئے ہیں۔ |
صوبہ سرحد اور بالخصوص پشاور میں امن و عامہ کی بگڑتی صورتحال پر قابو پانے کےلیے جہاں پولیس کو فری ہینڈ دیا گیا ہے وہاں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ان اقدامات کے باوجود حکومت کو بظاہر اپنی عمل داری بحال کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ تین دن پہلے پشاور میں صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے بارے میں سات گھنٹے تک طویل غور کیا گیا۔ اس جلاس میں صوبائی وزراء کے علاوہ سرحد پولیس کے سربراہ اور دیگر اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔ کابینہ نے صوبہ میں عسکریت پسندوں کی طرف سے مالی وسائل کی غرض سے اغوا کی وارداتوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو فری ہینڈ دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ تشویش عام ہے کہ پولیس فورس کو عسکریت پسندوں اور جرائم ہیشہ گروہوں سے نمٹنے کےلیے کس حد تک اختیار حاصل ہوگا اور یہ حکمت عملی کس حد تک کامیاب ہوگی؟ صوبائی وزیر قانون بریسٹر ارشد عبد اللہ کا کہنا ہے کہ فری ہینڈ کا مطلب یہ نہیں کہ پولیس فورس جو چاہے کرے بلکہ یہ اختیار اس لیے دیا گیا ہے تاکہ صوبہ میں بڑھتے ہوئے جرائم بالخصوص اغوا برائے تاوان کے وارداتوں پر قابو پایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں صوبائی حکومت نے سرحد پولیس کے اعلی افسران کو بھی مکمل اختیار دیا ہے کہ پولیس افسران کے تعیناتیوں اور تبادلوں کے حوالے کسی قسم کا سیاسی دباؤ قبول نہ کیا جائے بلکہ تمام تر توجہ صوبہ میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر دی جائے۔ پشاور شہر میں بالخصوص نیٹو افواج کو سامان رسد لے جانے والے ٹرکوں پر حملوں کے بعد اب نجی تعلیمی اداروں پر بھی حملے شروع ہوگئے ہیں۔ دو دن قبل ورسک روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے ایک نجی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا تھا جس سے علاقے میں شدید سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ ورسک روڈ پر کوئی تئیس کے قریب نجی تعلیمی ادراے قائم ہیں۔ اس سے پہلے سوات اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں نے درجنوں سرکاری اور نجی سکولوں پر حملے کرکے وہاں کا تعلیم نظام تباہ کرچکے ہیں۔
 | | | نجی تعلیمی ادارے کی بس جسے نظرِ آتش کر دیا گیا |
گزشتہ شب بھی ورسک روڈ ہی سے نامعلوم مسلح افراد نے چائے کا روبار کرنے والے ایک معروف تاجر کو ایک خاتون سمیت اغوا کرلیا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی خاتون کو بھی اغوا کار اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں۔ اس غیر یقینی کفیت کے باعث پشاور میں کئی کارخانوں کے بند ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جب کہ کئی صنعت کار اپنا سرمایہ دوسرے شہروں کو منتقل کر رہے ہیں۔ پشاور پولیس کے ایس ایس پی کاشف عالم نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنے میں مشکلات ضرور درپیش ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اغوا کی وارداتوں پر قابو پانے کےلیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی حالات ہیں جس میں ہمیں ایک قسم کے بغاوت کا سامنا ہے، ہمیں ایسے لوگوں سے لڑ رہے ہیں جو چھپ کر وار کرتے ہیں تو ایسے لوگوں سے مقابلہ دشوار ضرور ہوتا ہے لیکن ناممکن نہیں‘۔ پشاور شہر میں اگرچہ سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری ہر مقام پر نظر آتی ہے لیکن ان تمام تر اقدامات کے باجود شہر میں عسکریت پسندوں کو اپنی کارروائیاں جاری رکھنے میں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے۔ |