پشاور میں لاقانونیت کا دور دورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کبھی پھولوں کا شہر کہلوانے والا پشاور تیز اور بے ہنگم پھیلاؤ کی وجہ سے پھولوں جیسی صفت تو کب کا کھو چکا لیکن اب کوئی اسے ’اغوانستان‘ تو کوئی دنیا کے سب سے خطرناک شہر کا نام دے رہا ہے۔ یہ شہر ناپرساں بھی اب کابل اور اسلام آباد جیسی ظاہری شکل و صورت تیزی سے اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اپنے اس شہر میں سینڈ بیگز، بیریرز اور اضافی سکیورٹی فورسز کی نفری دیکھنے سے عجیب تکلیف سی محسوس ہوتی ہے، دکھ ہوتا ہے۔ بم دھماکے تو افغانستان میں روسی افواج کے خلاف مزاحمت کے دوران روز کا معمول تھے۔ آج کل یہ اپنی نئی شکل و صورت خودکش حملوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ اغواء کی اکا دکا وارداتیں پہلے بھی ہوتی تھیں لیکن اب انہیں معمول سمجھا جاتا تھا۔ ان واقعات سے عدم تحفظ کا ایک احساس تو ہمیشہ ہی رہا ہے لیکن اس بےچینی میں شدید اضافہ اعلی شخصیات کے اغواء کے تازہ واقعات سے ہوا ہے۔ ان واقعات میں گزشتہ چند ماہ میں غیرمعمولی تیزی آئی ہے۔
شہر کو تین اطراف سے شدت پسندوں کی پیش قدمی کا سامنا ہے۔ شمال میں مردان اور چارسدہ، مغرب میں مہمند اور خیبر قبائلی ایجنسیاں اور جنوب میں درہ آدم خیل میدان جنگ بنے ہوئے ہیں۔ تیس لاکھ نفوس کے شہر پشاور کی قبائلی علاقوں سے قربت ہمیشہ اس کے لیے ایک مسئلہ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں چند اہم شخصیات کو اغواء بھی شہر کے مغربی علاقوں سے کیا گیا۔ افغان اور ایرانی سفیر اب تک لاپتہ ہیں جبکہ ایک امریکی سمیت کئی غیرملکی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ صوبہ کے پچھواڑے یعنی سوات اور قبائلی علاقوں میں جاری لڑائی کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت نے حالات کے معمول پر رہنے کا پیغام گزشتہ دنوں پشاور میں بین الصوبائی کھیلوں کے انقاد سے دینے کی کوشش کی۔ ایسا تقریباً ہوا بھی لیکن کھیلوں کی اختتامی تقریب کے اختتام سے چند منٹ قبل خودکش حملے کا شاید مقصد بھی یہ تھا کہ حالات ہرگز معمول پر نہیں ہیں۔ اب سنا ہے کہ شہر کی پولیس نے شہر میں موجود قونصل خانوں کو حفاظت مہیا کرنے کے لیے خصوصی زون قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے خیال میں یہ فیصلہ کرنا آسان اور اسے عملی جامعہ پہنانا انتہائی مشکل ہوگا۔ شہر میں قائم تین چار سفارت خانے تین مختلف علاقوں میں اپنی قدیمی عمارتوں میں قائم ہیں۔ انہیں ایک علاقے میں منتقل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
لیکن شاید اس منتقلی سے سفارت کاروں کا تو مسئلہ کسی حد تک حل ہو جائے لیکن عام شہریوں کا کیا بنے گا۔ انہیں اس حصار میں بند کیا جائے گا۔ اکا دکا اہم شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں عام شہری جن میں افغان باشندے بھی شامل ہیں اغوا ہیں۔ اس سال کے آغاز سے اب تک پولیس کے پاس ایک سو چوبیس اغوا کے واقعات رجسٹر ہوئے ہیں ان میں سے آدھے اغوا برائے تعاون کے واقعات ہیں۔ کئی لوگوں کے مطابق حکومتی رٹ کی کمزوری کی وجہ سے اغوا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ بچوں تک کو اٹھا کر خاندان سے دور کر دیا گیا۔ آج کل اغوا کاروں کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اگر کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ اگر اغوا شدہ شخص چھوٹا موٹا آدمی ہے تو چند لاکھ سے کروڑ روپے تک ملنے کی امید ہوتی ہے لیکن اگر اغوا شدہ شخص کوئی اہم سرکاری شخصت ہے تو اغوا کاروں کی لاٹری ہے۔ چھوٹے اغوا کار اسے کسی بڑے گروپ یا شدت پسندوں کو ’فروخت‘ کر دیں گے۔ کابل میں پاکستانی سفیر کے ساتھ کہا جاتا ہے یہی کچھ ہوا تھا۔ چند ماہ قبل تک پشاور کے شدت پسندوں کے قبضے میں جانے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ کہا جا رہا تھا کہ وہ شہر کے دروازے تک آن پہنچے ہیں۔ تاہم حکام نے اس تاثر کو بےجا کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت وہ خوف شاید بےجا تھا لیکن اگر اس شہر کا شیرازہ اگر اسی طرح رفتا رفتا بکھرتا رہا تو شاید ماضی کے خدشات سچ ہونے میں کوئی زیادہ وقت نہ لگے۔ | اسی بارے میں ’سفارتکار کے اغواء میں طالبان کا ہاتھ‘14 November, 2008 | پاکستان پشاور: غیر ملکی صحافیوں پر فائرنگ14 November, 2008 | پاکستان پشاور اور اطرف، لاقانونیت کی لہر13 November, 2008 | پاکستان ایران کے سفارتکار اغوا، محافظ قتل13 November, 2008 | پاکستان چارسدہ: خود کش حملہ، تین ہلاک12 November, 2008 | پاکستان ’مزید گرفتاریاں ہوں گی‘11 November, 2008 | پاکستان پشاور:بین الصوبائی گیمز کے بعد دھماکہ11 November, 2008 | پاکستان ٹرکوں کا اغواء، طالبان کی سیاست11 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||