BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 November, 2008, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور میں لاقانونیت کا دور دورہ

زخمی جاپانی صحافی
پشاور غیر ملکیوں کے لیے خطرناک جگہ بنتا جا رہا ہے

کبھی پھولوں کا شہر کہلوانے والا پشاور تیز اور بے ہنگم پھیلاؤ کی وجہ سے پھولوں جیسی صفت تو کب کا کھو چکا لیکن اب کوئی اسے ’اغوانستان‘ تو کوئی دنیا کے سب سے خطرناک شہر کا نام دے رہا ہے۔

یہ شہر ناپرساں بھی اب کابل اور اسلام آباد جیسی ظاہری شکل و صورت تیزی سے اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اپنے اس شہر میں سینڈ بیگز، بیریرز اور اضافی سکیورٹی فورسز کی نفری دیکھنے سے عجیب تکلیف سی محسوس ہوتی ہے، دکھ ہوتا ہے۔

بم دھماکے تو افغانستان میں روسی افواج کے خلاف مزاحمت کے دوران روز کا معمول تھے۔ آج کل یہ اپنی نئی شکل و صورت خودکش حملوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ اغواء کی اکا دکا وارداتیں پہلے بھی ہوتی تھیں لیکن اب انہیں معمول سمجھا جاتا تھا۔

ان واقعات سے عدم تحفظ کا ایک احساس تو ہمیشہ ہی رہا ہے لیکن اس بےچینی میں شدید اضافہ اعلی شخصیات کے اغواء کے تازہ واقعات سے ہوا ہے۔ ان واقعات میں گزشتہ چند ماہ میں غیرمعمولی تیزی آئی ہے۔

سکیورٹی
زیادہ تر حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے

شہر کو تین اطراف سے شدت پسندوں کی پیش قدمی کا سامنا ہے۔ شمال میں مردان اور چارسدہ، مغرب میں مہمند اور خیبر قبائلی ایجنسیاں اور جنوب میں درہ آدم خیل میدان جنگ بنے ہوئے ہیں۔

تیس لاکھ نفوس کے شہر پشاور کی قبائلی علاقوں سے قربت ہمیشہ اس کے لیے ایک مسئلہ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں چند اہم شخصیات کو اغواء بھی شہر کے مغربی علاقوں سے کیا گیا۔ افغان اور ایرانی سفیر اب تک لاپتہ ہیں جبکہ ایک امریکی سمیت کئی غیرملکی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔

صوبہ کے پچھواڑے یعنی سوات اور قبائلی علاقوں میں جاری لڑائی کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت نے حالات کے معمول پر رہنے کا پیغام گزشتہ دنوں پشاور میں بین الصوبائی کھیلوں کے انقاد سے دینے کی کوشش کی۔ ایسا تقریباً ہوا بھی لیکن کھیلوں کی اختتامی تقریب کے اختتام سے چند منٹ قبل خودکش حملے کا شاید مقصد بھی یہ تھا کہ حالات ہرگز معمول پر نہیں ہیں۔

اب سنا ہے کہ شہر کی پولیس نے شہر میں موجود قونصل خانوں کو حفاظت مہیا کرنے کے لیے خصوصی زون قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے خیال میں یہ فیصلہ کرنا آسان اور اسے عملی جامعہ پہنانا انتہائی مشکل ہوگا۔ شہر میں قائم تین چار سفارت خانے تین مختلف علاقوں میں اپنی قدیمی عمارتوں میں قائم ہیں۔ انہیں ایک علاقے میں منتقل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

خود کش حملہ
پشاور میں بین الصوبائی کھیلوں کی اختتامی تقریب کے دوران خودکش حملہ ہوا

لیکن شاید اس منتقلی سے سفارت کاروں کا تو مسئلہ کسی حد تک حل ہو جائے لیکن عام شہریوں کا کیا بنے گا۔ انہیں اس حصار میں بند کیا جائے گا۔ اکا دکا اہم شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں عام شہری جن میں افغان باشندے بھی شامل ہیں اغوا ہیں۔ اس سال کے آغاز سے اب تک پولیس کے پاس ایک سو چوبیس اغوا کے واقعات رجسٹر ہوئے ہیں ان میں سے آدھے اغوا برائے تعاون کے واقعات ہیں۔

کئی لوگوں کے مطابق حکومتی رٹ کی کمزوری کی وجہ سے اغوا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ بچوں تک کو اٹھا کر خاندان سے دور کر دیا گیا۔ آج کل اغوا کاروں کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اگر کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ اگر اغوا شدہ شخص چھوٹا موٹا آدمی ہے تو چند لاکھ سے کروڑ روپے تک ملنے کی امید ہوتی ہے لیکن اگر اغوا شدہ شخص کوئی اہم سرکاری شخصت ہے تو اغوا کاروں کی لاٹری ہے۔

چھوٹے اغوا کار اسے کسی بڑے گروپ یا شدت پسندوں کو ’فروخت‘ کر دیں گے۔ کابل میں پاکستانی سفیر کے ساتھ کہا جاتا ہے یہی کچھ ہوا تھا۔

چند ماہ قبل تک پشاور کے شدت پسندوں کے قبضے میں جانے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ کہا جا رہا تھا کہ وہ شہر کے دروازے تک آن پہنچے ہیں۔ تاہم حکام نے اس تاثر کو بےجا کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت وہ خوف شاید بےجا تھا لیکن اگر اس شہر کا شیرازہ اگر اسی طرح رفتا رفتا بکھرتا رہا تو شاید ماضی کے خدشات سچ ہونے میں کوئی زیادہ وقت نہ لگے۔

اسی بارے میں
’مزید گرفتاریاں ہوں گی‘
11 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد