BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 November, 2008, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور اور اطرف، لاقانونیت کی لہر

 پشاور میں پولیس
پولیس کے مطابق اسٹیڈیم میں ہونے والا دھماکہ خودکش حملہ تھا
صوبائی دارالحکومت پشاور اور اطراف کے علاقوں میں گزشتہ دو دنوں میں غیر ملکی اہلکاروں کی ہلاکت، خودکش حملے اور اغواء کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر صوبائی انتظامیہ کے امان وامان سے متعلق اقدامات پر سوالیہ نشانہ لگا دیا ہے۔

دن دہاڑے اور پولیس کی موجودگی میں ہونے والے ان واقعات کی وجہ سے پشاور شہر میں اس وقت شدید بے چینی اور غیر یقینی کی کفیت پائی جاتی ہے جبکہ لوگوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد ختم ہوکر رہ گیا ہے۔

تقریباً دو دہائیوں تک افغان ’جہاد‘ میں مرکز کے طور پر استعمال ہونے والا پشاور شہر بظاہر ایک مرتبہ پھر انہی جہادیوں کے محاصرے میں دکھائی دیتا ہے۔ درہ آدم خیل کی سرحد سے خیبر ایجنسی تک تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلے تک پھیلے ہوئے اس شہر میں اب دن کے وقت بھی آزادانہ نقل و حرکت مشکل ہوتی جارہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں قتل اور اغواء کے وارداتوں کے بعد حملہ آوار کیسے باآسانی سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں؟ یہی وہ بڑا سوال ہے جسے یہاں کا ہر شہری بار بار اٹھا رہا ہے۔

سکیورٹی اور لاقانونیت
 لاقانونیت کے واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب پشاور اور قبائلی علاقوں کے قریب واقع صوبہ سرحد کے کئی شہروں میں سکیورٹی پہلے ہی سے انتہائی سخت ہے اور پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی اہلکار بھی جگہ جگہ گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں
پشاور شہر میں یونیورسٹی ٹاؤن اور حیات آباد سب سے ماڈرن اور اہم علاقے تصور کئے جاتے ہیں۔ پشاور کے تمام اہم افسران، غیر ملکی شہری، سفارتی اہلکار اور خان نواب انہی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ان علاقوں کی سکیورٹی بھی ہر لحاظ سے دیگر مقامات کے مقابلے میں بہتر ہے۔ یہاں پر پرائیوٹ سکیورٹی گارڈ بھی بڑی تعداد میں موجود رہتے ہیں جو تقریباً ہر دفتر اور گھر کے سامنے مسلح ہوکر ڈیوٹی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

لیکن دوسری طرف گزشتہ دو ماہ کے دوران اعلیٰ غیر ملکی اہلکاروں پر حملے اور ان کی اغواء کی وارداتیں بھی انہی دو مقامات پر پیش آئی ہیں۔ گزشتہ روز قبائلی علاقوں کےلیے امریکی ڈائریکٹر یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں ڈرائیور سمیت مارا گیا تھا جبکہ دوسرے دن یعنی جمعرات کو اعلیٰ ایرانی سفارت کار کو ایک اور محفوظ سمجھے جانے والے علاقے حیات آباد سے اغواء کیا گیا۔

تقریبًا دو ماہ قبل افغان قونصل جنرل حاجی عبد الخالق فراحی بھی حیات آباد ہی سے اغواء ہوئے تھے اور تاحال لاپتہ ہیں جبکہ ان کے ڈرائیور کو اغواکاروں نےگولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

سوات اور باجوڑ
 سوات اور باجوڑ میں طالبان کے خلاف جاری شدید کارروائیوں کے بعد خودکش اور دیگر وارداتوں میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی تھی۔ لیکن چند دنوں میں یک بعد دیگرے واقعات سے بظاہر لگتا ہے جب تک قبائلی علاقوں اور سوات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہی گی تو ان حملوں میں مزید شدت آسکتی ہے
اس کے علاوہ چار دیگر اہم افغان شہریوں کو بھی اغواء کیا جاچکا ہے جن میں افغان آریانہ یونیورسٹی کے سربراہ، افغان وزیر کا بھائی اور ایک اور افغان اہلکار شامل ہیں۔ ان اغواء ہونے والے افراد میں تاحال کسی کو بھی بازیاب نہیں کیا جاسکا ہے اور نہ ہی کسی نے ان وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اس کے علاوہ بدھ کو چارسدہ کے شہر شب قدر میں فوج اور ایف سی کے ایک مرکز کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تین اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس دھماکے سے ایک روز قبل قیوم سپورٹس کمپلیکس پشاو میں بین الصوبائی کھیلوں کی اختتامی تقریب پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں سنئیر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کے محافظ بھی ہلاک ہوئے تھے۔

یہ سارے واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب پشاور اور قبائلی علاقوں کے قریب واقع صوبہ سرحد کے کئی شہروں میں سکیورٹی پہلے ہی سے انتہائی سخت ہے اور پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی اہلکار بھی جگہ جگہ گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

باڑہ میں آپریشن اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کو تحریک طالبان کی طرف سے ملنے والی قتل کی دھمکیوں کے بعد پورے صوبے میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے لیکن اس کے باوجود حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سوات اور باجوڑ میں طالبان کے خلاف جاری شدید کارروائیوں کے بعد خودکش اور دیگر وارداتوں میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی تھی۔ لیکن چند دنوں میں یک بعد دیگرے واقعات سے بظاہر لگتا ہے جب تک قبائلی علاقوں اور سوات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہی تو ان حملوں میں مزید شدت آسکتی ہے۔

تـجزیہ نگاروں کا خیال ہےکہ جب تک شدت پسندوں سے نمٹنے کے لئے کوئی متفقہ پالیسی نہیں بنائی جاتی جس پر تمام اتحادی متفق ہوں اس وقت تک یہ غیر یقینی کی کفیت جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
پشاور، افغان قونصل جنرل اغوا
22 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد