پشاور اور اطرف، لاقانونیت کی لہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبائی دارالحکومت پشاور اور اطراف کے علاقوں میں گزشتہ دو دنوں میں غیر ملکی اہلکاروں کی ہلاکت، خودکش حملے اور اغواء کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر صوبائی انتظامیہ کے امان وامان سے متعلق اقدامات پر سوالیہ نشانہ لگا دیا ہے۔ دن دہاڑے اور پولیس کی موجودگی میں ہونے والے ان واقعات کی وجہ سے پشاور شہر میں اس وقت شدید بے چینی اور غیر یقینی کی کفیت پائی جاتی ہے جبکہ لوگوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک افغان ’جہاد‘ میں مرکز کے طور پر استعمال ہونے والا پشاور شہر بظاہر ایک مرتبہ پھر انہی جہادیوں کے محاصرے میں دکھائی دیتا ہے۔ درہ آدم خیل کی سرحد سے خیبر ایجنسی تک تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلے تک پھیلے ہوئے اس شہر میں اب دن کے وقت بھی آزادانہ نقل و حرکت مشکل ہوتی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں قتل اور اغواء کے وارداتوں کے بعد حملہ آوار کیسے باآسانی سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں؟ یہی وہ بڑا سوال ہے جسے یہاں کا ہر شہری بار بار اٹھا رہا ہے۔
لیکن دوسری طرف گزشتہ دو ماہ کے دوران اعلیٰ غیر ملکی اہلکاروں پر حملے اور ان کی اغواء کی وارداتیں بھی انہی دو مقامات پر پیش آئی ہیں۔ گزشتہ روز قبائلی علاقوں کےلیے امریکی ڈائریکٹر یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں ڈرائیور سمیت مارا گیا تھا جبکہ دوسرے دن یعنی جمعرات کو اعلیٰ ایرانی سفارت کار کو ایک اور محفوظ سمجھے جانے والے علاقے حیات آباد سے اغواء کیا گیا۔ تقریبًا دو ماہ قبل افغان قونصل جنرل حاجی عبد الخالق فراحی بھی حیات آباد ہی سے اغواء ہوئے تھے اور تاحال لاپتہ ہیں جبکہ ان کے ڈرائیور کو اغواکاروں نےگولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔
اس کے علاوہ بدھ کو چارسدہ کے شہر شب قدر میں فوج اور ایف سی کے ایک مرکز کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تین اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس دھماکے سے ایک روز قبل قیوم سپورٹس کمپلیکس پشاو میں بین الصوبائی کھیلوں کی اختتامی تقریب پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں سنئیر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کے محافظ بھی ہلاک ہوئے تھے۔ یہ سارے واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب پشاور اور قبائلی علاقوں کے قریب واقع صوبہ سرحد کے کئی شہروں میں سکیورٹی پہلے ہی سے انتہائی سخت ہے اور پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی اہلکار بھی جگہ جگہ گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ باڑہ میں آپریشن اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کو تحریک طالبان کی طرف سے ملنے والی قتل کی دھمکیوں کے بعد پورے صوبے میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے لیکن اس کے باوجود حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سوات اور باجوڑ میں طالبان کے خلاف جاری شدید کارروائیوں کے بعد خودکش اور دیگر وارداتوں میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی تھی۔ لیکن چند دنوں میں یک بعد دیگرے واقعات سے بظاہر لگتا ہے جب تک قبائلی علاقوں اور سوات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہی تو ان حملوں میں مزید شدت آسکتی ہے۔ تـجزیہ نگاروں کا خیال ہےکہ جب تک شدت پسندوں سے نمٹنے کے لئے کوئی متفقہ پالیسی نہیں بنائی جاتی جس پر تمام اتحادی متفق ہوں اس وقت تک یہ غیر یقینی کی کفیت جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں پشاور:بین الصوبائی گیمز کے بعد دھماکہ11 November, 2008 | پاکستان پشاور، افغان قونصل جنرل اغوا22 September, 2008 | پاکستان افغان وزیر کے بھائی پشاور سے اغوا31 October, 2008 | پاکستان ’حملہ آور کا ہدف پشاور شہر تھا‘07 September, 2008 | پاکستان رکنِ اسمبلی کے ڈیرے پر دھماکہ،بیس ہلاک06 October, 2008 | پاکستان پولیس لائنز دھماکہ، چند سوالات09 October, 2008 | پاکستان پشاور،مغوی پولیس والوں کیلیے احتجاج15 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||