’حملہ آور کا ہدف پشاور شہر تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے مضافات میں پولیس چیک پوسٹ پر سنیچر کو ہونے والے کار بم حملے کی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے حملہ آور پشاور شہر کی حدود میں کسی مقام کو نشانہ بنانا چاہتا تھا تاہم چیک پوسٹ پر روکے جانے کی وجہ سے اس نے مضافاتی علاقے میں دھماکہ کر دیا۔ بڈابیر سے دس کلومیٹر دور زنگلئی پولیس چوکی کے سامنے ہونے والے اس دھماکے میں تیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ پشاور دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کی سربراہی میں ایک تفتیشی ٹیم نے کام شروع کیا ہے۔ پشاور کے ایس پی ناصر الملک بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم ایڈیشنل آئی جی انوسٹیگیشن صفت غیور ، ڈی آئی جی اور دیگر اعلٰی پولیس اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور کا ہدف پشاور شہر میں کوئی جگہ تھی لیکن پولیس اہلکاروں کے روکنے پر اس نے خود کو چیک پوسٹ پر ہی اڑا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو اس قسم کے حملے کی پیشگی اطلاع تھی اور اسی لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے پورے شہر میں پہلے ہی تمام اہم علاقوں میں ناکہ بندی کی جا چکی تھی۔ ناصر الملک کے بقول ’میں نے زندگی میں کبھی کسی ایک دھماکے میں اتنے بڑے پیمانے پر جانی و مالی تباہی نہیں دیکھی جو کل کے دھماکے سے ہوئی‘۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے جبکہ دو اہلکار بدستور لاپتہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غالب امکان یہی ہے کہ لاپتہ ہونے والے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ سڑک کے دونوں اطراف موجود بڑے پلازہ منہدم ہو گئے اور ملبے کے نیچے افراد دب گئے اور ملبے سے لاشیں نکالنے کےلیے رات گئے تک امدادی کاروائیاں جاری رہیں۔ | اسی بارے میں پشاور دھماکہ، تیس افراد ہلاک06 September, 2008 | پاکستان پشاور، باڑہ میں بم دھماکے، 3 ہلاک24 May, 2008 | پاکستان پشاور پولیس پر حملہ، چار ہلاک09 June, 2008 | پاکستان پشاور میں پانچ بچے جل کر ہلاک28 April, 2008 | پاکستان پشاور:’مزار پر حملہ، دس ہلاک‘03 March, 2008 | پاکستان پشاور پولیس چیک پوسٹ پرحملہ24 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||