BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 September, 2008, 07:50 GMT 12:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور دھماکہ، تیس افراد ہلاک

پشاور کار بم حملہ
دھماکے سے متعدد گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے قریب ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیس ہوگئی ہے جبکہ سو سے زیادہ زخمی ہیں۔

یہ دھماکہ بڈابیر سے دس کلومیٹر دور زنگلئی پولیس چوکی کے سامنے ہوا۔

پشاور کے ایس ایس پی کاشف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زنگلئی پولیس چوکی پر اہلکاروں نے ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا جس پر ڈرائیور نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دھماکے میں سب انسپکٹر سمیت پانچ پولیس اہلکار اور پچیس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر خضر حیات نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اب تک سترہ افراد کی لاشیں ہسپتال میں لائی گئی ہیں جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے شعبہ حادثات کے انچارج ڈاکٹر عبداالقادر کے مطابق ہسپتال میں سو زخمیوں کو بھی لایا گیا ہے۔

یہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ سڑک کے دونوں اطراف موجود بڑے پلازہ منہدم ہو گئے اور ملبے کے نیچے افراد دب گئے۔ایس ایس پی پشاور کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے تمام لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

دھماکے کے مقام پر ایک بڑا گڑھا پڑ گیا

عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے ایک گاڑی کو پولیس چوکی کی طرف آتے دیکھا جو ایک زوردار دھماکےسے پھٹ گئی۔ ایک ہوٹل کے مالک غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سبزی خرید رہے تھے کہ انہوں نے چیک پوسٹ کی طرف ایک گاڑی جاتےہوئے دیکھی جس میں چند لمحے کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

ان کے بقول اس دوران ہرطرف اندھیر ا چھاگیا اور ایک بڑی مارکیٹ زمین بوس ہوگئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے آس پاس لاشیں اور زخمی دیکھے جو مدد کے لیے پکار رہے تھے۔

ایک اور شخص نے جس کا بھتیجا دھماکے میں زخمی ہوا، بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی دکان میں تھے کہ انہوں نے دھماکے کی آواز سنی اور اس دوران انہوں نے اپنے چہرے پر شیشے کی کرچیاں لگتی ہوئی محسوس کیں۔

ان کے مطابق’دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا مگر تھوڑی دیر بعد میں نے اپنے بھتیجے کو زمین پر زخمی حالت میں دیکھا۔میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنا زوردار دھماکہ نہیں دیکھا ہے‘۔

درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تحریکِ طالبان درہ آدم خیل کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک باجوڑ، درہ آدم خیل میں آپریشن بند نہیں کیا جاتا جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اسی بارے میں
پشاور پولیس چیک پوسٹ پرحملہ
24 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد